کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کا نسب، حلیہ، عمر اور وفات کا ذکر
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ هِشَامٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَكَّائِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: «الْمِقْدَادُ بْنُ عَمْرِو بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ ثُمَامَةَ بْنِ مَطْرُودِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ زُهَيْرِ بْنِ ثَوْرِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ الشَّرِيدِ بْنِ هَزْلِ بْنِ قابسِ بْنِ دُرَيْمِ بْنِ الْقَيْنِ بْنِ أَهْودَ بْنِ بَهْرَاءَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَافِ بْنِ قُضَاعَةَ، وَإِنَّمَا نُسِبَ إِلَى الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ بْنِ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ زُهْرَةَ لِأَنَّهُ تَبَنَّاهُ وَحَالَفَهُ، وَكَانَ آدَمَ أَبْطَنَ يُصَفِّرُ لِحْيَتَهُ، أَقْنَى طَوِيلَ الْأَنْفِ، مَاتَ بِالْمَدِينَةِ وَهُوَ ابْنُ سَبْعِينَ سَنَةً، وَصَلَّى عَلَيْهِ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا»
ترجمہ
محمد بن اسحاق کہتے ہیں: ”مقداد بن عمرو بن ثعلبہ بن ربیعہ بن ثمامہ بن مطرود بن عمرو بن سعد بن زہیر بن ثور بن ثعلبہ بن مالک بن شرید بن ہزل بن قابس بن دریم بن قین بن اہود بن بہراء بن عمرو بن حاف بن قضاعہ، اور وہ اسود بن عبدیغوث بن وہب بن عبدمناف بن زہرہ کی طرف اس لیے منسوب ہوئے کہ اس نے انہیں لے پالک بنایا اور ان سے حلف باندھا۔ وہ گندمی رنگ، بھاری بھرکم جسم کے، اپنی داڑھی پیلی رنگتے، اونچی اور لمبی ناک والے تھے۔ وہ مدینہ میں ستر سال کی عمر میں فوت ہوئے، اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہما نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: «رَأَيْتُ الْمِقْدَادَ وَكَانَ ضَخْمًا»
ترجمہ
ہمام بن حارث کہتے ہیں: ”میں نے مقداد رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ بھاری بھرکم تھے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا بَقِيَّةُ، عَنْ حَرِيزِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو رَاشِدٍ الْحُبْرَانِيُّ قَالَ: رَأَيْتُ الْمِقْدَادَ فَارِسَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا عَلَى تَابُوتٍ مِنْ تَوَابِيتِ الصَّيَارِفَةِ بِحِمْصَ قَدْ أَفْضَلَ عَنْهَا مِنْ عَظْمِهِ يُرِيدُ الْغَزْوَ، فَقُلْتُ: لَقَدْ أَعْذَرَ اللهُ إِلَيْكَ، قَالَ: " أَبَتْ عَلَيْنَا سُورَةُ الْبَعُوثِ: {انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا} [التوبة: ٤١] "
ترجمہ
ابوراشد حبرانی کہتے ہیں: میں نے مقداد رضی اللہ عنہ کو - جو رسول اللہ ﷺ کے شہسوار (گھڑسوار مجاہد) تھے - دیکھا کہ وہ حمص میں صرافوں کے ایک صندوق پر بیٹھے تھے، جبکہ ان کا جسم اس سے کہیں زیادہ بھاری تھا، اور وہ جہاد کے لیے جانا چاہتے تھے، تو میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے تو آپ کو معذور قرار دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا: ”سورۃ البعوث (یعنی سورۃ التوبہ) نے ہمیں (بیٹھ رہنے سے) انکار کر دیا ہے: 'ہلکے اور بھاری ہو کر نکلو' [التوبہ: 41]۔“
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عَقِيلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: «كَانَ الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ مِنْ كِنْدَةَ»
ترجمہ
ابن شہاب کہتے ہیں: ”مقداد بن اسود کندہ قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنِ ابْنِ شِمَاسَةَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ صَهْبَانَةَ الْمَهْرِيِّ، قَالَ: «كُنْتُ صَاحِبَ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ رَجُلًا مِنْ بَهْرَاءَ، فَأَصَابَ فِيهِمْ دَمًا فَهَرَبَ إِلَى كِنْدَةَ، فَحَالَفَهُمْ، ثُمَّ أَصَابَ فِيهِمْ دَمًا فَهَرَبَ إِلَى مَكَّةَ فَحَالَفَ الْأَسْوَدَ بْنَ عَبْدِ يَغُوثَ»
ترجمہ
سفیان بن صہبانہ مہری کہتے ہیں: ”میں جاہلیت کے زمانے میں مقداد بن اسود کا ساتھی تھا، وہ بہراء قبیلے کے ایک شخص تھے، انہوں نے اپنی قوم میں کسی کا خون بہایا تو کندہ کی طرف بھاگ گئے اور ان سے حلف باندھا، پھر انہوں نے ان میں بھی کسی کا خون بہایا تو مکہ کی طرف بھاگ گئے اور اسود بن عبدیغوث سے حلف باندھا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَيَّانَ الْمَازِنِيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، " أَنَّ الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ اسْتَقْرَضَ مِنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ سَبْعَةَ آلَافٍ، فَلَمَّا طَلَبَهَا مِنْهُ قَالَ: إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ آلَافٍ، فَخَاصَمَهُ إِلَى عُمَرَ، فَقَالَ عُثْمَانُ: أَقْرَضْتُهُ سَبْعَةَ آلَافٍ، وَقَالَ الْمِقْدَادُ: تَحْلِفُ أَنَّهَا سَبْعَةُ آلَافٍ؟ فَقَالَ: قَدْ أَنْصَفْتَ، فَأَبَى أَنْ يَحْلِفَ فَقَالَ: خُذْ مَا أَعْطَاكَ، فَقَالَ: وَاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ إِنَّمَا هِيَ سَبْعَةُ آلَافٍ؟ قَالَ: فَمَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَحْلِفَ إِنَّ هَذَا اللَّيْلُ وَهَذَا النَّهَارُ؟ "
ترجمہ
شعبی بیان کرتے ہیں ”کہ مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے سات ہزار قرض لیے، جب انہوں نے ان سے واپسی کا مطالبہ کیا تو مقداد رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تو صرف چار ہزار ہیں۔ تو وہ اس معاملے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے انہیں سات ہزار قرض دیے تھے۔ اور مقداد رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ قسم کھائیں گے کہ یہ سات ہزار ہیں؟ تو (عمر رضی اللہ عنہ نے) کہا: تم نے انصاف کی بات کی۔ مگر عثمان رضی اللہ عنہ نے قسم کھانے سے انکار کر دیا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جو یہ تمہیں دیں وہ لے لو۔ پھر انہوں نے کہا: اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، یہ تو سات ہزار ہی ہیں۔ کہا: تو پھر تمہیں قسم کھانے سے کیا چیز روکتی ہے، جبکہ یہ رات اور یہ دن (گواہ) ہیں؟“
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ قَالَ: «تُوُفِّيَ الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ بِالْجُرُفِ، وَحَمَلَهُ الرِّجَالُ إِلَى الْمَدِينَةِ عَلَى أَرْقَابِهِمْ فِي سَنَةِ ثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ، وَصَلَّى عَلَيْهِ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، يُكْنَى أَبَا مَعْبَدٍ وَسِنُّهُ نَحْوٌ مِنْ سَبْعِينَ»
ترجمہ
یحییٰ بن بکیر کہتے ہیں: ”سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ الجرف کے مقام پر فوت ہوئے، لوگ انہیں اپنے کندھوں پر اٹھا کر مدینہ لائے، یہ 33 ہجری کا واقعہ ہے، اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی، ان کی کنیت ابومعبد تھی، اور ان کی عمر تقریباً ستر سال تھی۔“