المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
نسبة المقداد، وذكر صفته وسنه ووفاته باب: سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کا نسب، حلیہ، عمر اور وفات کا ذکر
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَيَّانَ الْمَازِنِيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، " أَنَّ الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ اسْتَقْرَضَ مِنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ سَبْعَةَ آلَافٍ، فَلَمَّا طَلَبَهَا مِنْهُ قَالَ: إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ آلَافٍ، فَخَاصَمَهُ إِلَى عُمَرَ، فَقَالَ عُثْمَانُ: أَقْرَضْتُهُ سَبْعَةَ آلَافٍ، وَقَالَ الْمِقْدَادُ: تَحْلِفُ أَنَّهَا سَبْعَةُ آلَافٍ؟ فَقَالَ: قَدْ أَنْصَفْتَ، فَأَبَى أَنْ يَحْلِفَ فَقَالَ: خُذْ مَا أَعْطَاكَ، فَقَالَ: وَاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ إِنَّمَا هِيَ سَبْعَةُ آلَافٍ؟ قَالَ: فَمَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَحْلِفَ إِنَّ هَذَا اللَّيْلُ وَهَذَا النَّهَارُ؟ "شعبی بیان کرتے ہیں ”کہ مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے سات ہزار درہم قرض لیے، جب انہوں نے واپسی کا مطالبہ کیا تو عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تو صرف چار ہزار ہیں۔ تو وہ اس معاملے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، مقداد نے کہا: میں نے اسے سات ہزار قرض دیے تھے۔ مقداد نے عثمان سے کہا: کیا تم قسم کھاؤ گے کہ یہ سات ہزار ہیں؟ عثمان نے کہا: تم نے انصاف کی بات کی۔ مگر وہ قسم کھانے سے انکار کر گئے۔ عمر نے کہا: جو وہ تمہیں دیں لے لو۔ مقداد نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، یہ سات ہزار ہی ہیں۔ عمر نے کہا: تو پھر تمہیں قسم کھانے سے کیا چیز روکتی ہے، جبکہ یہ رات اور یہ دن گواہ ہیں؟“