کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: عطاء بن یسار کی سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو هَمَّامٍ الدَّلَّالُ، ثنا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ صَلَّى هَؤُلَاءِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ وَصَامَ شَهْرَ رَمَضَانَ - لَا أَدْرِي ذَكَرَ زَكَاةَ مَالِهِ أَمْ لَا - كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ إِنْ هَاجَرَ أَوْ قَعَدَ حَيْثُ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَا أَخْرُجُ فَأُوذِنُ النَّاسَ؟ فَقَالَ: «لَا، ذَرِ النَّاسَ يَعْمَلُونَ، فَإِنَّ الْجَنَّةَ مِائَةُ دَرَجَةٍ، بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ مِنْهَا مِثْلُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَأَعْلَى دَرَجَةٍ مِنْهَا الْفِرْدَوْسُ»
ترجمہ
عطاء بن یسار رحمہ اللہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جو یہ پانچ نمازیں پڑھے اور رمضان کے روزے رکھے - مجھے یاد نہیں کہ آپ ﷺ نے اپنے مال کی زکوٰۃ کا ذکر کیا یا نہیں - تو یہ اللہ پر حق ہے کہ وہ اسے بخش دے، خواہ وہ ہجرت کرے یا وہیں بیٹھا رہے جہاں اس کی ماں نے اسے جنا۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں نکل کر لوگوں کو خبر نہ دے دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، لوگوں کو عمل کرنے دو، کیونکہ جنت کے سو درجے ہیں، ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے، اور ان کا سب سے اونچا درجہ فردوس ہے۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَابْنُ الدَّرَاوَرْدِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
ترجمہ
عطاء بن یسار رحمہ اللہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی کریم ﷺ سے اسی جیسی حدیث بیان کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
عطاء بن یسار رحمہ اللہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی کریم ﷺ سے اسی جیسی حدیث بیان کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، وَأَقَامَ الصَّلَاةَ، وَآتَى الزَّكَاةَ، وَصَامَ رَمَضَانَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ» فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ
ترجمہ
عطاء بن یسار رحمہ اللہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، اور نماز قائم کرے، زکوٰۃ ادا کرے، اور رمضان کے روزے رکھے، تو یہ اللہ پر حق ہے کہ وہ اسے بخش دے۔“ پھر راوی نے ہشام بن سعد کی روایت جیسی حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاذٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَوْصِنِي، فَقَالَ: " عَلَيْكَ بِتَقْوَى اللهِ مَا اسْتَطَعْتَ، وَاذْكُرِ اللهَ عِنْدَ كُلِّ حَجَرٍ وشَجَرٍ، وَمَا عَمِلْتَ مِنْ سُوءٍ فَأَحْدَثْ لِلَّهِ فِيهِ تَوْبَةً: السِّرُّ بِالسِّرِّ، وَالْعَلَانِيَةُ بِالْعَلَانِيَةِ "
ترجمہ
عطاء بن یسار رحمہ اللہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے نصیحت فرمائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جتنا ہو سکے اللہ سے ڈرتے رہو، اور ہر پتھر اور درخت کے پاس اللہ کو یاد کرو، اور جو برائی کرو اس کے لیے اللہ سے نئی توبہ کرو: چھپی ہوئی (برائی) کا چھپ کر، اور کھلی ہوئی کا کھل کر۔“