المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الرحمن بن معمر بن جرير الأنصاري، عن معاذ باب: عبدالرحمٰن بن معمر بن جریر انصاری کی سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّمْلِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ لِرَجُلٍ عَلَيَّ بَعْضُ الْحَقِّ فَخَشِيتُهُ، فَجَلَسْتُ فَلَبِثْتُ يَوْمَيْنِ لَا أَخْرَجُ، ثُمَّ خَرَجْتُ فَجِئْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا مُعَاذُ، مَا خَلَّفَكَ؟» فَقُلْتُ: كَانَ لِرَجُلٍ عَلَيَّ حَقٌّ خَشِيتُهُ حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ وَكَرِهْتُ أَنْ يَلْقَانِي، فَقَالَ: «أَلَا آمُرُكَ بِكَلِمَاتٍ تَقُولُهُنَّ إِنْ كَانَ عَلَيْكَ أَمْثَالُ الْجِبَالِ قَضَاهُ اللهُ» قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: " قُلِ: {اللهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ، وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ} [آل عمران: ٢٦] إِلَى قَوْلِهِ {بِغَيْرِ حِسَابٍ} [آل عمران: ٢٧] إِلَى الْآخِرِ، رَحْمَنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَرَحِيمَهُمَا، تُعْطَى مِنْهُمَا مَنْ تَشَاءُ، وتَمْنَعُ مِنْهُمَا مَنْ تَشَاءُ، اللهُمَّ أَغْنِنِي عَنِ الْفَقْرِ، وَاقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ، وَتَوَفَّنِي فِي عِبَادِكَ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِكَ "…سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں: ایک آدمی کا مجھ پر کچھ حق (قرض) تھا، تو میں اس سے ڈر گیا، اور دو دن تک بیٹھا رہا، باہر نہ نکلا، پھر میں نکلا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے معاذ! تمہیں کس چیز نے روکے رکھا؟“ میں نے عرض کیا: ایک آدمی کا مجھ پر حق (قرض) تھا اور میں اس سے اتنا ڈر گیا کہ مجھے شرم آنے لگی اور میں نے یہ پسند نہ کیا کہ وہ مجھ سے ملے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں کچھ کلمات نہ بتاؤں جو تم کہو تو اگر تم پر پہاڑوں جتنا (قرض) بھی ہو، اللہ اسے ادا کر دے؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کہو: ﴿اے اللہ! بادشاہی کے مالک! تو جسے چاہے بادشاہی دے، اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لے﴾ [آل عمران: 26] یہاں تک کہ ﴿بے حساب﴾ [آل عمران: 27] تک، آخر تک، دنیا اور آخرت دونوں کے مہربان اور رحم کرنے والے، تو انہیں جسے چاہے دیتا ہے اور جسے چاہے روک لیتا ہے، اے اللہ! مجھے فقر سے بے نیاز کر دے، اور میری طرف سے قرض ادا کر دے، اور مجھے اپنے بندوں میں اور اپنے راستے میں جہاد کرتے ہوئے وفات دے۔“