کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: علی بن حسین کی سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُسَامَةَ الْحَلَبِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ الرُّصَافِيُّ، حَدَّثَنِي جَدِّي، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ، وَعِنْدَهُ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا سَمِعَتْ بِذَلِكَ فَاطِمَةُ أَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ لَهُ: إِنَّ قَوْمَكَ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّكَ لَا تَغْضَبُ لِبَنَاتِكَ، وَهَذَا عَلِيٌّ نَاكِحًا بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ، قَالَ الْمِسْوَرُ: فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَسَمِعْتُهُ تَشَهَّدَ ثُمَّ قَالَ: «أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أَنْكَحْتُ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ فَحَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي، وَإِنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ بَضْعَةٌ مِنِّي، وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ تَفْتِنُوهَا، وَإِنَّهَا وَاللهِ لَا تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَابْنَةُ عَدُوِّ اللهِ عِنْدَ رَجُلٍ وَاحِدٍ أَبَدًا» قَالَ: فَتَرَكَ عَلِيٌّ الْخِطْبَةَ
ترجمہ
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: … اور یہ علی ہیں جو ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کر رہے ہیں۔ مسور کہتے ہیں: تو رسول اللہ ﷺ منبر پر کھڑے ہوئے، میں نے آپ ﷺ کو تشہد پڑھتے سنا، پھر فرمایا: ”امابعد! میں نے اپنی بیٹی ابوالعاص بن ربیع سے بیاہی تھی، تو اس نے مجھ سے بات کی اور مجھ سے سچ کہا، اور فاطمہ بنت محمد میرا ٹکڑا ہے، اور میں ناپسند کرتا ہوں کہ تم اسے فتنے میں ڈالو، اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی کبھی ایک ہی مرد کے پاس اکٹھی نہیں ہو سکتیں۔“ راوی کہتے ہیں: تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس نکاح کا پیغام ترک کر دیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17154
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 18، حدیث 18
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ترجمہ
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کا پیغام بھیجا … پھر راوی نے مکمل حدیث بیان کی جیسا کہ اوپر گزر چکی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17155
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 18، حدیث 19
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدُّؤَلِيِّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ مِنْ عِنْدِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ - مَقْتَلَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ - لَقِيَهُ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ، فَقَالَ لَهُ: هَلْ لَكَ مِنْ حَاجَةٍ تَأْمُرُنِي بِهَا؟ فَقُلْتُ: لَا، فَقَالَ: هَلْ أَنْتَ مُعْطِيَّيَ سَيْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَغْلِبَكَ الْقَوْمُ عَلَيْهِ، وَأَيْمُ اللهِ لَئِنْ أَعْطَيْتَنِي لَا يُخلَصْ إِلَيْهِ أَبَدًا حَتَّى يَبْلُغَ فِيهِ نَفْسِي، إِنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ عَلَى فَاطِمَةَ، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ فِي ذَلِكَ عَلَى مِنْبَرِهِ هَذَا - وَأَنَا يَوْمَئِذٍ مُحْتَلِمٌ - وَقَالَ: «إِنَّ فَاطِمَةَ مِنِّي، وَأَنَا أَخَافُ أَنْ تُفْتَتَنَ فِي دِينِهَا» ثُمَّ ذَكَرَ صِهْرَ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ وَأَثْنَى عَلَى أَبِي الْعَاصِ فِي مُصَاهَرَتِهِ إِيَّاهُ، قَالَ: «فَصَدَقَنِي وَوَعَدَنِي فَوَفَّى لِي، وَإِنِّي لَسْتُ أُحَرِّمُ حَلَالًا وَلَا أُحِلُّ حَرَامًا، وَلَكِنْ وَاللهِ لَا تَجْتَمِعُ بَيْنَ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَابْنَةِ عَدُوِّ اللهِ»
ترجمہ
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہوتے ہوئے ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کا پیغام بھیجا، تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس بارے میں اپنے اس منبر پر لوگوں سے خطاب کرتے سنا - اور اس دن میں بالغ ہو چکا تھا - آپ ﷺ نے فرمایا: ”فاطمہ مجھ سے ہے، اور مجھے خدشہ ہے کہ وہ اپنے دین میں فتنے میں پڑ جائے گی۔“ پھر آپ ﷺ نے بنو عبدشمس کی دامادی کا ذکر فرمایا اور اپنی دامادی میں ابوالعاص کی تعریف کی، فرمایا: ”اس نے مجھ سے سچ کہا اور مجھ سے وعدہ کیا تو اسے پورا کیا، اور میں کسی حلال کو حرام اور کسی حرام کو حلال نہیں کرتا، لیکن اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی کبھی اکٹھی نہیں ہو سکتیں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17156
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 19، حدیث 20
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، أَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ رَاشِدٍ يُحَدِّثُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ، فأَوْعَدَ النِّكَاحَ، فَأَتَتْ فَاطِمَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنَّ قَوْمَكَ يَتَحَدَّثُونَ أَنْ لَا تَغْضَبَ لِبَنَاتِكَ، وَإِنَّ عَلِيًّا خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّمَا فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي، وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ تُفْتَتَنَ» وَذَكَرَ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ فَأَحْسَنَ عَلَيْهِ الثَّنَاءَ، وَقَالَ: «إِنَّهُ لَا يَجْمَعُ بَيْنَ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ ابْنَةِ عَدُوِّ اللهِ»
ترجمہ
(کسی خاتون نے) نبی کریم ﷺ سے عرض کیا: آپ کی قوم کہتی ہے کہ آپ اپنی بیٹیوں کے معاملے میں غصہ نہیں کرتے، حالانکہ علی نے ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کا پیغام بھیجا ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا: ”فاطمہ تو میرا ٹکڑا ہے، اور میں ناپسند کرتا ہوں کہ وہ فتنے میں پڑے۔“ اور آپ ﷺ نے ابوالعاص بن ربیع کا ذکر کیا اور ان کی بہت اچھی تعریف کی، اور فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی کبھی اکٹھی نہیں ہو سکتیں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17157
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 19، حدیث 21