❮
❯
حدیث نمبر: 17156
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدُّؤَلِيِّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ مِنْ عِنْدِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ - مَقْتَلَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ - لَقِيَهُ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ، فَقَالَ لَهُ: هَلْ لَكَ مِنْ حَاجَةٍ تَأْمُرُنِي بِهَا؟ فَقُلْتُ: لَا، فَقَالَ: هَلْ أَنْتَ مُعْطِيَّيَ سَيْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَغْلِبَكَ الْقَوْمُ عَلَيْهِ، وَأَيْمُ اللهِ لَئِنْ أَعْطَيْتَنِي لَا يُخلَصْ إِلَيْهِ أَبَدًا حَتَّى يَبْلُغَ فِيهِ نَفْسِي، إِنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ عَلَى فَاطِمَةَ، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ فِي ذَلِكَ عَلَى مِنْبَرِهِ هَذَا - وَأَنَا يَوْمَئِذٍ مُحْتَلِمٌ - وَقَالَ: «إِنَّ فَاطِمَةَ مِنِّي، وَأَنَا أَخَافُ أَنْ تُفْتَتَنَ فِي دِينِهَا» ثُمَّ ذَكَرَ صِهْرَ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ وَأَثْنَى عَلَى أَبِي الْعَاصِ فِي مُصَاهَرَتِهِ إِيَّاهُ، قَالَ: «فَصَدَقَنِي وَوَعَدَنِي فَوَفَّى لِي، وَإِنِّي لَسْتُ أُحَرِّمُ حَلَالًا وَلَا أُحِلُّ حَرَامًا، وَلَكِنْ وَاللهِ لَا تَجْتَمِعُ بَيْنَ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَابْنَةِ عَدُوِّ اللهِ»
ترجمہ

علی بن حسین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ جب وہ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی شہادت کے بعد یزید بن معاویہ کے پاس سے مدینہ آئے تو سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ ان سے ملے اور کہا: کیا آپ کو کوئی ضرورت ہے جس کا آپ مجھے حکم دیں؟ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: کیا آپ مجھے رسول اللہ ﷺ کی تلوار دیں گے؟ کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ یہ لوگ اس پر آپ سے غالب آ جائیں گے، اور اللہ کی قسم! اگر آپ نے وہ مجھے دے دی تو کوئی کبھی اس تک نہیں پہنچ سکے گا یہاں تک کہ میری جان چلی جائے۔ (پھر کہا:) سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہوتے ہوئے ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کا پیغام بھیجا، تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس بارے میں اپنے اس منبر پر لوگوں سے خطاب کرتے سنا - اور اس دن میں بالغ ہو چکا تھا - آپ ﷺ نے فرمایا: ”فاطمہ مجھ سے ہے، اور مجھے خدشہ ہے کہ وہ اپنے دین میں فتنے میں پڑ جائے گی۔“ پھر آپ ﷺ نے بنو عبدشمس کی دامادی کا ذکر فرمایا اور اپنی دامادی میں ابوالعاص کی تعریف کی، فرمایا: ”اس نے مجھ سے سچ کہا اور مجھ سے وعدہ کیا تو اسے پورا کیا، اور میں کسی حلال کو حرام اور کسی حرام کو حلال نہیں کرتا، لیکن اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی اکٹھی نہیں ہو سکتیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17156
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 19، حدیث 20