❮
❯
حدیث نمبر: 17154
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُسَامَةَ الْحَلَبِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ الرُّصَافِيُّ، حَدَّثَنِي جَدِّي، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ، وَعِنْدَهُ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا سَمِعَتْ بِذَلِكَ فَاطِمَةُ أَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ لَهُ: إِنَّ قَوْمَكَ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّكَ لَا تَغْضَبُ لِبَنَاتِكَ، وَهَذَا عَلِيٌّ نَاكِحًا بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ، قَالَ الْمِسْوَرُ: فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَسَمِعْتُهُ تَشَهَّدَ ثُمَّ قَالَ: «أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أَنْكَحْتُ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ فَحَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي، وَإِنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ بَضْعَةٌ مِنِّي، وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ تَفْتِنُوهَا، وَإِنَّهَا وَاللهِ لَا تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَابْنَةُ عَدُوِّ اللهِ عِنْدَ رَجُلٍ وَاحِدٍ أَبَدًا» قَالَ: فَتَرَكَ عَلِيٌّ الْخِطْبَةَ
ترجمہ

سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی بیٹی کو نکاح کا پیغام بھیجا، جبکہ سیدہ فاطمہ بنت رسول اللہ ﷺ ان کے نکاح میں تھیں۔ جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے یہ سنا تو رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: آپ کی قوم میں یہ باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ اپنی بیٹیوں کے معاملے میں غصہ نہیں کرتے، اور یہ علی ہیں جو ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کر رہے ہیں۔ مسور کہتے ہیں: تو رسول اللہ ﷺ منبر پر کھڑے ہوئے، میں نے آپ ﷺ کو تشہد پڑھتے سنا، پھر فرمایا: ”امابعد! میں نے اپنی بیٹی ابوالعاص بن ربیع سے بیاہی تھی، تو اس نے مجھ سے بات کی اور مجھ سے سچ کہا، اور فاطمہ بنت محمد میرا ٹکڑا ہے، اور میں ناپسند کرتا ہوں کہ تم اسے فتنے میں ڈالو، اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی کبھی ایک ہی مرد کے پاس اکٹھی نہیں ہو سکتیں۔“ راوی کہتے ہیں: تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس نکاح کا پیغام ترک کر دیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17154
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 18، حدیث 18