المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
علي بن الحسين، عن المسور بن مخرمة باب: علی بن حسین کی سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، أَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ رَاشِدٍ يُحَدِّثُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ، فأَوْعَدَ النِّكَاحَ، فَأَتَتْ فَاطِمَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنَّ قَوْمَكَ يَتَحَدَّثُونَ أَنْ لَا تَغْضَبَ لِبَنَاتِكَ، وَإِنَّ عَلِيًّا خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّمَا فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي، وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ تُفْتَتَنَ» وَذَكَرَ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ فَأَحْسَنَ عَلَيْهِ الثَّنَاءَ، وَقَالَ: «إِنَّهُ لَا يَجْمَعُ بَيْنَ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ ابْنَةِ عَدُوِّ اللهِ»سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی بیٹی کو نکاح کا پیغام بھیجا اور نکاح کا وعدہ کر لیا، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی کریم ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: آپ کی قوم کہتی ہے کہ آپ اپنی بیٹیوں کے معاملے میں غصہ نہیں کرتے، اور علی نے ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کا پیغام بھیجا ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا: ”فاطمہ تو میرا ٹکڑا ہے، اور میں ناپسند کرتا ہوں کہ وہ فتنے میں پڑے۔“ اور آپ ﷺ نے ابوالعاص بن ربیع کا ذکر کیا اور ان کی بہت اچھی تعریف کی، اور فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی کو (ایک نکاح میں) جمع نہیں کیا جا سکتا۔“