کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: کچھ نامعلوم راویوں کی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ، سَمِعَ مُعَاوِيَةَ، يَقُولُ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ لَبَنًا ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ»
ترجمہ
ایک شخص، جس کا نام نہیں لیا گیا، بیان کرتا ہے کہ اس نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دودھ پیتے دیکھا، پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور بغیر وضو کیے نماز پڑھی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا الْعِلْمُ بِالتَّعَلُّمِ، وَالْفِقْهُ بِالتَّفَقُّهِ، وَمَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ، وَإِنَّمَا يَخْشَى اللهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ»
ترجمہ
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”اے لوگو! علم سیکھنے ہی سے حاصل ہوتا ہے اور سمجھ سمجھنے کی کوشش ہی سے آتی ہے، اور جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے، اور اللہ کے بندوں میں سے صرف علماء ہی اس سے ڈرتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْفَضْلِ بْنِ مُبَشِّرٍ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَشَرَةُ أَبْيَاتٍ بِالْحِجَازِ أَبْقَى مِنْ عِشْرِينَ بَيْتًا بِالشَّامِ»
ترجمہ
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حجاز کے دس گھر شام کے بیس گھروں سے زیادہ باقی رہنے والے ہیں۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو مَسْعُودٍ أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعْدٍ الدَّشْتَكِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الثَّقَفِيِّ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عَمِّهِ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ، وَقَدْ صَلَّيْنَا الظُّهْرَ، وَنَحْنُ نَدْعُو اللهَ فَقَالَ: مَكَانَكُمْ حَتَّى آتِيَكُمْ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا وَقَدِ ارْتَدَى، فَلَمَّا صَلَّى الْعَصْرَ، قَالَ: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِشَيْءٍ فَعَلَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلُّوا مَعَهُ الْأُولَى ثُمَّ جَلَسُوا إِلَى أَنْ صَلُّوا مَعَهُ الْعَصْرَ فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ: «مَا بَرَحْتُمْ بَعْدُ؟» ، قَالُوا: لَا، قَالَ: «لَوْ رَأَيْتُمْ رَبَّكُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَتْحَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ السَّمَاءِ يُبَاهِي مَلَائِكَتَهُ مَجَالِسَكُمْ وَأَنْتُمْ تَرْقُبُونَ الصَّلَاةَ»
ترجمہ
ایک شخص اپنے چچا سے روایت کرتا ہے، انہوں نے کہا: ہم ظہر کی نماز پڑھ چکے تھے اور اللہ سے دعا کر رہے تھے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اپنی جگہ پر رہو یہاں تک کہ میں تمہارے پاس آ جاؤں۔ پھر وہ چادر اوڑھ کر ہمارے پاس آئے، جب انہوں نے عصر کی نماز پڑھی تو فرمایا: کیا میں تمہیں وہ بات نہ بتاؤں جو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے کی تھی؟ وہ آپ ﷺ کے ساتھ پہلی نماز پڑھ کر بیٹھے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے ساتھ عصر کی نماز بھی پڑھی، تو آپ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”کیا تم ابھی تک یہیں ہو؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم اپنے رب تبارک و تعالیٰ کو دیکھو کہ اس نے آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھول دیا ہے، وہ اپنے فرشتوں کے سامنے تمہاری مجلسوں پر فخر فرماتا ہے جبکہ تم نماز کا انتظار کر رہے ہوتے ہو۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ شَيْخًا، يُحَدِّثُ مُغِيرَةَ، عَنْ بِنْتِ هِشَامِ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، وَكَانَ يُمَرِّضُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ، قَالَ: دَخَلَ مُعَاوِيَةُ عَلَى عَمَّارٍ، فَلَمَّا خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ قَالَ: اللهُمَّ لَا تَجْعَلْ مَنِيَّتَهُ بِأَيْدِينَا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «تُقْتَلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ»
ترجمہ
ہشام بن ولید بن مغیرہ کی بیٹی، جو سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی تیمارداری کیا کرتی تھیں، بیان کرتی ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، جب ان کے پاس سے نکلے تو فرمایا: اے اللہ! ان کی موت ہمارے ہاتھوں نہ کرنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ”عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا۔“