المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
رجال لم يسموا عن معاوية باب: کچھ نامعلوم راویوں کی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو مَسْعُودٍ أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعْدٍ الدَّشْتَكِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الثَّقَفِيِّ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عَمِّهِ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ، وَقَدْ صَلَّيْنَا الظُّهْرَ، وَنَحْنُ نَدْعُو اللهَ فَقَالَ: مَكَانَكُمْ حَتَّى آتِيَكُمْ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا وَقَدِ ارْتَدَى، فَلَمَّا صَلَّى الْعَصْرَ، قَالَ: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِشَيْءٍ فَعَلَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلُّوا مَعَهُ الْأُولَى ثُمَّ جَلَسُوا إِلَى أَنْ صَلُّوا مَعَهُ الْعَصْرَ فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ: «مَا بَرَحْتُمْ بَعْدُ؟» ، قَالُوا: لَا، قَالَ: «لَوْ رَأَيْتُمْ رَبَّكُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَتْحَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ السَّمَاءِ يُبَاهِي مَلَائِكَتَهُ مَجَالِسَكُمْ وَأَنْتُمْ تَرْقُبُونَ الصَّلَاةَ»ایک شخص اپنے چچا سے روایت کرتا ہے، انہوں نے کہا: ہم ظہر کی نماز پڑھ چکے تھے اور اللہ سے دعا کر رہے تھے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اپنی جگہ پر رہو یہاں تک کہ میں تمہارے پاس آ جاؤں۔ پھر وہ چادر اوڑھ کر ہمارے پاس آئے، جب انہوں نے عصر کی نماز پڑھی تو فرمایا: کیا میں تمہیں وہ بات نہ بتاؤں جو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے کی تھی؟ وہ آپ ﷺ کے ساتھ پہلی نماز پڑھ کر بیٹھے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے ساتھ عصر کی نماز بھی پڑھی، تو آپ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”کیا تم ابھی تک یہیں ہو؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم اپنے رب تبارک و تعالیٰ کو دیکھو کہ اس نے آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھول دیا ہے، وہ اپنے فرشتوں کے سامنے تمہاری مجلسوں پر فخر فرماتا ہے جبکہ تم نماز کا انتظار کر رہے ہوتے ہو۔“