کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: عبیدہ بن مہاجر، ابوعبدرب، کی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ثنا أَبُو عَبْدِ رَبٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّمَا بَقِيَ مِنَ الدُّنْيَا بَلَاءٌ وَفِتْنَةٌ، وَإِنَّمَا مَثَلُ أَحَدِكُمْ مِثْلُ الْوِعَاءِ إِذَا طَابَ أَعْلَاهُ طَابَ أَسْفَلُهُ»
ترجمہ
ابوعبد رب بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ کہتے سنا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”دنیا میں سے صرف آزمائش اور فتنہ باقی رہ گیا ہے، اور تم میں سے ہر ایک کی مثال برتن جیسی ہے، جب اس کا اوپری حصہ پاکیزہ ہو تو اس کا نچلا حصہ بھی پاکیزہ ہوتا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ مُوسَى بْنُ سَهْلٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، ح حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَا: ثنا ابْنُ جَابِرٍ، ثنا عُبَيْدَةُ بْنُ الْمُهَاجِرِ أَبُو عَبْدِ رَبٍّ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ، عَلَى الْمِنْبَرِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ رَجُلًا أَسْرَفَ عَلَى نَفْسِهِ فَأَتَى رَجُلًا، فَقَالَ: إِنَّ الْآخَرَ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا كُلُّهُمْ يَقْتُلُهَا ظُلْمًا، فَهَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ؟، فَقَالَ: لَا، فَقَتَلَهُ، وَأَتَى آخَرٌ، فَقَالَ: إِنَّ الْآخَرَ قَتَلَ مِائَةَ نَفْسٍ كُلُّهَا ظُلْمًا فَهَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ؟، قَالَ: إِنْ حَدَّثْتُكَ أَنَّ اللهَ لَا يَتُوبُ عَلَى مِنْ تَابَ فَقَدْ كَذَبْتُكَ، هَهُنَا مَكَانٌ فِيهِ قَوْمٌ يَتَعَبَّدُونَ، فَائْتِهِمْ تَعْبُدِ اللهَ مَعَهُمْ، فَتَوَجَّهَ إِلَيْهِمْ فَمَاتَ عَلَى ذَلِكَ، فَاخْتَصَمَتْ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ وَمَلَائِكَةُ الْعَذَابِ، فَبَعَثَ اللهُ إِلَيْهِمْ مَلَكًا، قَالَ: قِيسُوا بَيْنَ الْمَكَانَيْنِ فَأَيُّهُمْ كَانَ أَقْرَبَ فَهُوَ مِنْهُمْ، فَوَجَدُوهُ أَقْرَبَ إِلَى دَيْرِ التَّوَّابِينَ بِأَنْمُلَةٍ، فَغُفِرَ لَهُ «،» وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ الْوَلِيدِ "
ترجمہ
اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف ایک فرشتہ بھیجا، جس نے کہا: دونوں جگہوں کے درمیان فاصلہ ناپو، جو جگہ اس سے زیادہ قریب ہو وہ اسی کی طرف شمار ہو گا۔ چنانچہ انہوں نے پایا کہ وہ توبہ کرنے والوں کی بستی کے ایک بالشت زیادہ قریب تھا، تو اسے بخش دیا گیا۔
اور یہ الفاظ ولید کی روایت کے ہیں۔
اور یہ الفاظ ولید کی روایت کے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَعْصَعَةَ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ رَبٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللهَ لَا يُغْلَبُ، وَلَا يُخْلَبُ، وَلَا يُنَبَّأُ بِمَا لَا يَعْلَمُ، مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ»
ترجمہ
ابوعبد رب بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا: ”بے شک اللہ نہ مغلوب کیا جا سکتا ہے، نہ دھوکہ دیا جا سکتا ہے، اور نہ اسے کسی ایسی بات کی خبر دی جا سکتی ہے جو وہ نہ جانتا ہو۔ جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔“