❮
❯
حدیث نمبر: 16916
حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ مُوسَى بْنُ سَهْلٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، ح حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَا: ثنا ابْنُ جَابِرٍ، ثنا عُبَيْدَةُ بْنُ الْمُهَاجِرِ أَبُو عَبْدِ رَبٍّ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ، عَلَى الْمِنْبَرِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ رَجُلًا أَسْرَفَ عَلَى نَفْسِهِ فَأَتَى رَجُلًا، فَقَالَ: إِنَّ الْآخَرَ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا كُلُّهُمْ يَقْتُلُهَا ظُلْمًا، فَهَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ؟، فَقَالَ: لَا، فَقَتَلَهُ، وَأَتَى آخَرٌ، فَقَالَ: إِنَّ الْآخَرَ قَتَلَ مِائَةَ نَفْسٍ كُلُّهَا ظُلْمًا فَهَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ؟، قَالَ: إِنْ حَدَّثْتُكَ أَنَّ اللهَ لَا يَتُوبُ عَلَى مِنْ تَابَ فَقَدْ كَذَبْتُكَ، هَهُنَا مَكَانٌ فِيهِ قَوْمٌ يَتَعَبَّدُونَ، فَائْتِهِمْ تَعْبُدِ اللهَ مَعَهُمْ، فَتَوَجَّهَ إِلَيْهِمْ فَمَاتَ عَلَى ذَلِكَ، فَاخْتَصَمَتْ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ وَمَلَائِكَةُ الْعَذَابِ، فَبَعَثَ اللهُ إِلَيْهِمْ مَلَكًا، قَالَ: قِيسُوا بَيْنَ الْمَكَانَيْنِ فَأَيُّهُمْ كَانَ أَقْرَبَ فَهُوَ مِنْهُمْ، فَوَجَدُوهُ أَقْرَبَ إِلَى دَيْرِ التَّوَّابِينَ بِأَنْمُلَةٍ، فَغُفِرَ لَهُ «،» وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ الْوَلِيدِ "
ترجمہ

ابوعبد رب عبیدہ بن مہاجر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ بیان کرتے سنا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”ایک شخص جس نے اپنی جان پر زیادتی کی تھی، ایک آدمی کے پاس آیا اور کہا: اس (شخص یعنی مجھ) نے ننانوے جانیں قتل کی ہیں، ان سب کو ظلم سے قتل کیا ہے، تو کیا میرے لیے کوئی توبہ ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ تو اس نے اسے (بھی) قتل کر دیا۔ پھر وہ ایک دوسرے شخص کے پاس آیا اور کہا: اس (شخص) نے سو جانیں قتل کی ہیں، سب ظلم سے، تو کیا اس کے لیے کوئی توبہ ہے؟ اس نے کہا: اگر میں تم سے یہ کہوں کہ اللہ توبہ کرنے والے کی توبہ قبول نہیں کرتا تو میں نے تم سے جھوٹ بولا۔ یہاں ایک جگہ ہے جس میں کچھ لوگ عبادت کرتے ہیں، تم ان کے پاس جاؤ اور ان کے ساتھ اللہ کی عبادت کرو۔ چنانچہ وہ ان کی طرف چل پڑا اور اسی حال میں فوت ہو گیا۔ تو رحمت کے فرشتوں اور عذاب کے فرشتوں میں جھگڑا ہو گیا، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف ایک فرشتہ بھیجا، جس نے کہا: دونوں جگہوں کے درمیان فاصلہ ناپو، وہ جس جگہ کے زیادہ قریب ہو وہ انہی میں سے شمار ہو گا۔ چنانچہ انہوں نے اسے توبہ کرنے والوں کی عبادت گاہ کے ایک پور زیادہ قریب پایا، تو اسے بخش دیا گیا۔“
اور یہ الفاظ ولید کی روایت کے ہیں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 16916
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 369، حدیث 867