کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: محمد بن کعب قرظی کی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيُّ، قَالَ: قَالَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: «أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ» لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَى اللهُ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْهُ الْجَدُّ، وَمَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ "، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ هَذِهِ الْكَلِمَاتِ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَذِهِ الْأَعْوَادِ
ترجمہ
محمد بن کعب القرظی رحمہ اللہ کہتے ہیں: معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے منبر پر (کھڑے ہو کر) فرمایا: ”اے لوگو! جو اللہ عطا کرے اسے کوئی روکنے والا نہیں، اور جو وہ روک دے اسے کوئی دینے والا نہیں، اور کسی خوش نصیب کو اس کی خوش نصیبی اللہ کے مقابلے میں کچھ فائدہ نہیں دیتی، اور جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔“ پھر فرمایا: میں نے یہ الفاظ رسول اللہ ﷺ سے اسی منبر پر سنے تھے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْقَطِرَانِيُّ، ثنا كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى، ثنا أَبُو أُمَيَّةَ بْنُ يَعْلَى، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ زِيَادٍ، مَوْلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ الْقُرَظِيُّ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَى اللهُ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْهُ الْجَدُّ، وَمَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ، سَمِعْتُ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ
محمد بن کعب القرظی رحمہ اللہ کہتے ہیں: معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے، منبر پر چڑھے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”اے لوگو! جو اللہ عطا کرے اسے کوئی روکنے والا نہیں، اور جو وہ روک دے اسے کوئی دینے والا نہیں، اور کسی خوش نصیب کو اس کی خوش نصیبی اللہ کے مقابلے میں کچھ فائدہ نہیں دیتی، اور جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے، میں نے یہ الفاظ رسول اللہ ﷺ سے سنے ہیں۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ الْقُرَظِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، يَخْطُبُ بِالْمَدِينَةِ يَقُولُ: " لَتَعْلَمُنَّ أَيُّهَا النَّاسُ أَنَّهُ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَى اللهُ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعَ اللهُ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْهُ الْجَدُّ، مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ، سَمِعْتُ هَذِهِ الْأَحْرُفَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَذِهِ الْأَعْوَادِ
ترجمہ
محمد بن کعب القرظی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں خطبہ دیتے سنا، وہ فرما رہے تھے: ”اے لوگو! تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ جو اللہ عطا کرے اسے کوئی روکنے والا نہیں، اور جو اللہ روک دے اسے کوئی دینے والا نہیں، اور کسی خوش نصیب کو اس کی خوش نصیبی اللہ کے مقابلے میں کچھ فائدہ نہیں دیتی، جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے، میں نے یہ الفاظ رسول اللہ ﷺ سے اسی منبر پر سنے تھے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَرَجِ الرِّيَاشِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عَمْرٍو، ح وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَا: ثنا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ، يَخْطُبُ، فَقَالَ: «مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ، وَإِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، فَمَنْ يَأْخُذُهُ بِحَقِّهِ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ» ، ثُمَّ يَقُولُ: «سَمِعْتُ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَإِنَّ السَّامِعَ الْمُطِيعَ لَا حُجَّةَ عَلَيْهِ، وَإِنَّ السَّامِعَ الْعَاصِيَ لَا حُجَّةَ لَهُ»
ترجمہ
محمد بن کعب القرظی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو خطبہ دیتے سنا، انہوں نے فرمایا: ”جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے، اور یہ مال شیریں اور ہرا بھرا ہے، پس جو اسے اس کے حق کے مطابق لے تو اس میں اس کے لیے برکت دی جاتی ہے۔“ پھر فرماتے: ”میں نے یہ الفاظ رسول اللہ ﷺ سے منبر پر سنے تھے، اور بےشک سن کر اطاعت کرنے والے کے خلاف کوئی حجت نہیں، اور سن کر نافرمانی کرنے والے کے حق میں کوئی حجت نہیں۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ، وَيُلْهِمُهُ رُشْدَهُ»
ترجمہ
محمد بن کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے، اور اسے ہدایت کی راہ سکھا دیتا ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ»
ترجمہ
عثمان بن حکیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے محمد بن کعب رحمہ اللہ کو یہ کہتے سنا: میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”اے اللہ! جو تو نے عطا کیا اسے کوئی روکنے والا نہیں، اور جو تو روک دے اسے کوئی دینے والا نہیں، جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ الْكُوفِيُّ، ثنا الْمُعَافَى بْنُ عِمْرَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ نَفَرًا كَانُوا فِي عَهْدِ مُعَاوِيَةَ يَشْهَدُونَ الْفَجْرَ وَيَجْلِسُونَ عِنْدَ قَاصِّ الْجَمَاعَةِ، فَإِذَا سَلَّمَ تَحَوَّلُوا إِلَى نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَيَذْكُرُونَ اللهَ وَيَتْلُونَ كِتَابَ اللهِ حَتَّى يَتَعَالَى النَّهَارُ، فَأُخْبِرَ مُعَاوِيَةُ بِهِمْ فَجَاءَ يُهَرْوِلُ أَوْ يَسْعَى فِي مِشْيَتِهِ حَتَّى وَقَفَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ: جِئْتُ أُبَشِّرُكُمْ بِبُشْرَى اللهِ فِيمَا رِزْقَكُمْ، أَنَّ نَفَرًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحْسَبُهُ قَالَ: كَانُوا يَصْنَعُونَ نَحْوًا مِمَّا تَصْنَعُونَ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَأَنِّي أَحْكِيهِ فِي مِشْيَتِهِ حَتَّى وَقَفَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: «أَبْشِرُوا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبَاهِي بِكُمُ الْمَلَائِكَةَ»
ترجمہ
محمد بن کعب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں کچھ لوگ فجر کی نماز میں حاضر ہوتے اور جماعت کے قصہ گو کے پاس بیٹھ جاتے، پھر جب سلام پھیرا جاتا تو مسجد کے ایک کونے کی طرف ہو جاتے اور اللہ کا ذکر کرتے اور اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے رہتے یہاں تک کہ دن چڑھ جاتا۔ معاویہ رضی اللہ عنہ کو ان کے بارے میں خبر دی گئی تو وہ دوڑتے یا تیز چال چلتے ہوئے آئے یہاں تک کہ ان کے پاس رک گئے اور فرمایا: میں تمہیں اللہ کی وہ خوشخبری سنانے آیا ہوں جو اس نے تمہیں عطا فرمائی ہے: رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں کچھ لوگ تھے — میرا خیال ہے انہوں نے کہا: وہ ویسا ہی کچھ کرتے تھے جیسا تم کرتے ہو — پھر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے، گویا میں آپ ﷺ کی چال کی نقل کر رہا ہوں، یہاں تک کہ ان کے پاس رک گئے، اور فرمایا: ”خوش ہو جاؤ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اللہ عزوجل تمہاری وجہ سے فرشتوں کے سامنے فخر کرتا ہے۔“