کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: عبداللہ بن حارث بن نوفل کی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ، قَالَ لِمُعَاوِيَةَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ حِينَ كَانَ يَبْنِي الْمَسْجِدَ لِعَمَّارٍ: «إِنَّكَ لَحَرِيصٌ عَلَى الْجِهَادِ، وَإِنَّكَ لِمَنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَلَتَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» ، قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَلِمَ قَتَلْتُمُوهُ؟ قَالَ: «وَاللهِ مَا تَزَالُ تَدْحَضُ فِي بَوْلِكَ، أَنَحْنُ قَتَلْنَاهُ؟، إِنَّمَا قَتَلَهُ الَّذِي جَاءَ بِهِ»
ترجمہ
…عبداللہ بن حارث سے روایت ہے کہ عمرو بن العاص نے معاویہ سے کہا: اے امیر المومنین! کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے نہیں سنا جب آپ ﷺ عمار کے لیے مسجد بنا رہے تھے: ”تم جہاد کے حریص ہو، اور تم اہلِ جنت میں سے ہو، اور تمہیں باغی گروہ قتل کرے گا“؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ انہوں نے کہا: تو پھر تم نے اسے کیوں قتل کیا؟ انہوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! تم اپنے ہی پیشاب میں پھسلتے چلے جا رہے ہو، کیا ہم نے اسے قتل کیا؟ اسے تو صرف اس نے قتل کیا جو اسے میدان میں لایا۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ أَسْبَاطِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبِي، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو، وَمُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ يَقُولُونَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمَّارٍ: «تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ»
ترجمہ
…عبداللہ بن حارث بن نوفل نے عمرو بن العاص، عبداللہ بن عمرو اور معاویہ بن ابی سفیان کو یہ کہتے سنا: رسول اللہ ﷺ نے عمار سے فرمایا: ”تمہیں باغی گروہ قتل کرے گا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ، ثنا صَالِحُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ حَنْظَلَةَ السَّدُوسِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، وَكَانَ مُعَاوِيَةُ خَالَهُ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ، فَأَبْصَرَ نَاسًا يُصَلُّونَ بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ: «مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ؟، قَدْ صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا رَأَيْنَا أَحَدًا يُصَلِّيهَا»
ترجمہ
…حنظلہ سدوسی، عبداللہ بن حارث سے روایت کرتے ہیں — اور معاویہ ان کے ماموں تھے —، وہ کہتے ہیں: میں عصر کی نماز کے بعد معاویہ کے پاس تھا، تو انہوں نے کچھ لوگوں کو اس کے بعد دو رکعت پڑھتے دیکھا، تو فرمایا: ”یہ کیسی نماز ہے؟ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی مگر ہم نے کسی کو یہ نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔“