حدیث نمبر: 16807
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ، قَالَ لِمُعَاوِيَةَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ حِينَ كَانَ يَبْنِي الْمَسْجِدَ لِعَمَّارٍ: «إِنَّكَ لَحَرِيصٌ عَلَى الْجِهَادِ، وَإِنَّكَ لِمَنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَلَتَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» ، قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَلِمَ قَتَلْتُمُوهُ؟ قَالَ: «وَاللهِ مَا تَزَالُ تَدْحَضُ فِي بَوْلِكَ، أَنَحْنُ قَتَلْنَاهُ؟، إِنَّمَا قَتَلَهُ الَّذِي جَاءَ بِهِ»
ترجمہ

…عبداللہ بن حارث سے روایت ہے کہ عمرو بن العاص نے معاویہ سے کہا: اے امیر المومنین! کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے نہیں سنا جب آپ ﷺ عمار کے لیے مسجد بنا رہے تھے: ”تم جہاد کے حریص ہو، اور تم اہلِ جنت میں سے ہو، اور تمہیں باغی گروہ قتل کرے گا“؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ انہوں نے کہا: تو پھر تم نے اسے کیوں قتل کیا؟ انہوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! تم اپنے ہی پیشاب میں پھسلتے چلے جا رہے ہو، کیا ہم نے اسے قتل کیا؟ اسے تو صرف اس نے قتل کیا جو اسے میدان میں لایا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 16807
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 330، حدیث 758