حَدَّثَنَا طَالِبُ بْنُ قُرَّةَ الْأَذَنِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الطَّبَّاعُ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أبيه قَالَ: «كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فَنَامُوا عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،» فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ وَتَوَضَّأُوا وَصَلُّوا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَقَامَ بِلَالٌ فَصَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ حَدَّثَنَا بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، حَفِظَهُ مَنْ حَفِظَهُ وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ "
ترجمہ
…یزید بن ابی مریم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، ہم ایک جگہ اترے تو لوگ نماز سے غافل ہو کر سو گئے یہاں تک کہ سورج طلوع ہو گیا، نبی کریم ﷺ اٹھے تو بلال کو حکم دیا، انہوں نے اذان دی، لوگوں نے وضو کیا اور دو رکعت (سنت) پڑھیں، پھر بلال نے اقامت کہی تو نبی کریم ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر آپ ﷺ نے ہمیں وہ باتیں بتائیں جو قیامت تک پیش آنے والی ہیں، جس نے یاد رکھا اس نے یاد رکھا اور جو بھول گیا وہ بھول گیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، ثنا أَبِي، وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا جَرِيرُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أبيه قَالَ: «نَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِ الصُّبْحِ، فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَاسْتَيْقَظُ، فَأَمَرُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا فَأَذَّنَ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَمَرَ فَصَلَّى الْفَجْرَ»
ترجمہ
سیدنا ابومریم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ صبح کے وقت سو گئے اور سورج طلوع ہونے تک بیدار نہ ہوئے، جب بیدار ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے بلال کو حکم دیا، انہوں نے اذان دی، پھر آپ ﷺ نے دو رکعت پڑھیں، پھر حکم دیا تو فجر کی نماز پڑھائی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، ثنا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أبيه قَالَ: «قَامَ فِينَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامًا، ثُمَّ حَدَّثَنَا بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ»
ترجمہ
سیدنا ابومریم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے، پھر ہمیں وہ باتیں بتائیں جو قیامت تک پیش آنے والی ہیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَبَّانُ بْنُ يَسَارٍ الْكِلَابِيُّ، ثنا بُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ أَبَا مَرْيَمَ يَذْكُرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ فِي خُطْبَةٍ لَهُ يَقُولُ: «اللهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ» ، قَالَ: يَقُولُ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ وَالْمُقَصِّرِينَ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالْمُقَصِّرِينَ»
ترجمہ
سیدنا ابومریم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے ایک خطبے میں فرمایا: ”اے اللہ! سر منڈوانے والوں کو بخش دے۔“ ایک آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اور بال کتروانے والوں کو بھی، تین بار (یہی کہا)، نبی کریم ﷺ نے (بالآخر) فرمایا: ”اور بال کتروانے والوں کو بھی۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا رَجَاءُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُذْرِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ، قَالَا: ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِدْرِيسَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَزِيدَ بْنِ مَالِكِ بْنِ رَبِيعَةَ السَّلُولِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّهُ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الشَّجَرَةِ، وَيَوْمَ الْهَدْيِ مَعْكُوفًا قَبْلَ أَنْ يَبْلُغَ مَحِلَّهُ، وَأَنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ مَا يَحْمِلُكَ عَلَى أَنْ تُدْخِلَ هَؤُلَاءِ عَلَيْنَا وَنَحْنُ كَارِهُونَ؟، فَقَالَ: «هَؤُلَاءِ خَيْرٌ مِنْكَ وَمِنْ أَجْدَادِكَ، يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ»
ترجمہ
…اور قربانی کے جانور کو (کعبہ کے احاطے میں) روکے رکھا گیا قبل اس کے کہ وہ اپنی جگہ پہنچے، اور مشرکین میں سے ایک آدمی نے کہا: اے محمد! تمہیں کس چیز نے آمادہ کیا ہے کہ تم انہیں ہمارے سامنے لاتے ہو حالانکہ ہم انہیں ناپسند کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تم سے اور تمہارے آباء و اجداد سے بہتر ہیں، یہ اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اللہ ان سے راضی ہو چکا ہے۔“