حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ كَعْبٍ الطَّائِفِيَّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ كَرْدَمٍ، أَنَّهَا كَانَتْ رَدِيفَ أَبِيهَا فَسَمِعَتْ أَبَاهَا: يَسْأَلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنِّي نَذَرْتُ لَأَنْحَرَنَّ بِبُوَانَةَ، فَقَالَ: «هَلْ بِهَا وَثَنٌ أَوْ طَاغِيَةٌ تُعْبَدُ؟» ، قَالَ: لَا، قَالَ: «أَوْفِ بِنَذْرِكَ»
ترجمہ
سیدہ میمونہ بنت کردم رضی اللہ عنہا اپنے والد (کردم بن سفیان ثقفی رضی اللہ عنہ) کے پیچھے سوار تھیں، انہوں نے اپنے والد کو نبی کریم ﷺ سے پوچھتے سنا، انہوں نے عرض کیا: میں نے نذر مانی تھی کہ بوانہ میں قربانی کروں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا وہاں کوئی بت یا معبود ہے جس کی پوجا کی جاتی ہو؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اپنی نذر پوری کرو۔“
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، ثنا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ كَرْدَمَ بْنَ سُفْيَانَ الثَّقَفِيَّ، أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ ذُودَ إِبِلٍ بِبُوَانَةَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَى وَثَنٍ؟» ، فَقَالَ: لَا، فَقَالَ: «أَعَلَى جَمَعٍ مِنْ جُمُوعِ الْجَاهِلِيَّةِ؟» ، قَالَ: لَا، قَالَ: «أَوْفِ بِنَذْرِكَ حَيْثُ كَانَ، يَا كَرْدَمُ إِنَّهُ لَا نَذْرَ وَلَا يَمِينَ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ»
ترجمہ
سیدنا کردم بن سفیان ثقفی رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے نذر مانی ہے کہ بوانہ میں اونٹوں کا ایک ریوڑ ذبح کروں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”کیا کسی بت پر؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا زمانہ جاہلیت کے کسی اجتماع پر؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو جہاں بھی ہو اپنی نذر پوری کرو، اے کردم! اللہ کی نافرمانی میں نہ کوئی نذر ہے نہ کوئی قسم۔“
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ الْعَيْشِيُّ، حَدَّثَنِي سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي سَارَةُ بِنْتُ مِقْسَمٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ ابْنَةِ كَرْدَمٍ، عَنْ أَبِيهَا كَرْدَمِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ فَأَصْغَى إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَيْنَ عَامُ جَيْشِ عِثْرَانَ؟، قَالَ: فَعَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ الْجَيْشَ، كُنْتُ فِي ذَلِكَ الْجَيْشِ، فَقَالَ طَارِقُ بْنُ الْمُرَقَّعِ: مَنْ يُعْطِينِي رُمْحًا بِثَوَابِهِ؟، قُلْتُ: وَمَا ثَوَابُهُ؟، فَقَالَ: أَوَّلُ ابْنَةٍ تُولَدُ لِي أُزَوِّجُهُ إِيَّاهَا، فَأَعْطَيْتُهُ رُمْحِي فَأَهْوَتْ عَنْهُ شَيْئًا، ثُمَّ بَلَغَنِي أَنَّهُ وُلِدَ لَهُ ابْنَةٌ وَقَدْ بَلَغَتْ، فَقُلْتُ: انْقُلْ إِلَيَّ أَهْلِي، فَأَبَى إِلَّا بِصَدَاقٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَبِقَدْرِ أَيِّ النِّسَاءِ هِيَ؟» ، قَالَ: قَدْ رَأَتِ الْقَتِيرَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرٌ لَكَ أَنْ لَا تَأْثَمَ وَلَا تُؤْثِمَ، دَعْهَا عَنْكَ»
ترجمہ
(کردم بن سفیان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:) میں نے اسے اپنا نیزہ دے دیا تو اس نے اس کے بدلے کچھ مہلت دی، پھر مجھے پتا چلا کہ اس کی ایک بیٹی پیدا ہوئی تھی جو بالغ ہو چکی تھی، تو میں نے کہا: میری بیوی کو میرے پاس منتقل کر دو۔ اس نے مہر کے بغیر انکار کر دیا۔ نبی کریم ﷺ نے پوچھا: ”وہ دیگر عورتوں کے کس درجے کی ہے؟“ اس نے کہا: وہ بڑھاپے کے آثار دیکھ چکی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تیرے لیے بہتر یہی ہے کہ نہ تو خود گناہ گار بنے نہ اسے گناہ گار بنائے، اسے چھوڑ دے۔“