المعجم الكبير للطبراني
باب الكاف— حرف کاف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
كردم بن قيس باب: سیدنا کردم بن قیس رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، وَأَبُو زَيْدٍ أَحْمَدُ بْنُ زَيْدٍ الْحَوْطِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْيَمَانِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ كَرْدَمَ بْنَ قَيْسٍ، قَالَ: خَرَجْتُ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي يُقَالُ لَهُ أَبُو ثَعْلَبَةَ فِي يَوْمٍ حَارٍّ وَعَلِيَّ حِذَاءٌ وَلَا حِذَاءَ لَهُ، فَقَالَ: أَعْطِنِي نَعْلَكَ، فَقُلْتُ: لَا، إِلَّا أَنْ تَزَوَّجَنِي ابْنَتَكَ، فَقَالَ: أَعْطِنِي فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا بَعَثَ إِلَيَّ بِنَعْلَيَّ وَقَالَ: لَا زَوْجَةَ لَكَ عِنْدِي، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «دَعْهَا، وَلَا خَيْرَ لَكَ فِيهَا»
فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي نَذَرْتُ لَأَنْحَرَنَّ ذُودًا مِنْ إِبِلٍ ذَوْدَى مَكَانَ كَذَا وَكَذَا قَالَ: «أَوْفِ بِنَذْرِكَ، لَا نَذْرَ فِي قَطِيعَةِ رَحِمٍ وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ»سیدنا کردم بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اور میرا ایک چچازاد بھائی، جسے ابو ثعلبہ کہا جاتا تھا، ایک گرم دن میں نکلے، میرے پاس جوتا تھا اور اس کے پاس نہ تھا، تو اس نے کہا: مجھے اپنا جوتا دے دو۔ میں نے کہا: نہیں، مگر یہ کہ تم اپنی بیٹی سے میری شادی کر دو، تو اس نے کہا: مجھے (جوتا) دے دو، میں نے اس سے تمہاری شادی کر دی۔ جب ہم واپس ہوئے تو اس نے میرے پاس میرے جوتے بھیج دیے اور کہا: میرے پاس تمہاری کوئی بیوی نہیں۔ میں نے یہ بات نبی کریم ﷺ سے ذکر کی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، اس میں تیرے لیے کوئی بھلائی نہیں۔“
میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے نذر مانی ہے کہ فلاں فلاں جگہ اونٹوں کا ایک ریوڑ ذبح کروں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی نذر پوری کرو، رشتہ داری توڑنے میں کوئی نذر نہیں اور نہ اس چیز میں جس کا انسان مالک نہیں۔“