المعجم الكبير للطبراني
باب الكاف— حرف کاف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
كردم بن سفيان الثقفي أبو ميمونة باب: سیدنا کردم بن سفیان ثقفی، ابومیمونہ، رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ الْعَيْشِيُّ، حَدَّثَنِي سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي سَارَةُ بِنْتُ مِقْسَمٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ ابْنَةِ كَرْدَمٍ، عَنْ أَبِيهَا كَرْدَمِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ فَأَصْغَى إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَيْنَ عَامُ جَيْشِ عِثْرَانَ؟، قَالَ: فَعَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ الْجَيْشَ، كُنْتُ فِي ذَلِكَ الْجَيْشِ، فَقَالَ طَارِقُ بْنُ الْمُرَقَّعِ: مَنْ يُعْطِينِي رُمْحًا بِثَوَابِهِ؟، قُلْتُ: وَمَا ثَوَابُهُ؟، فَقَالَ: أَوَّلُ ابْنَةٍ تُولَدُ لِي أُزَوِّجُهُ إِيَّاهَا، فَأَعْطَيْتُهُ رُمْحِي فَأَهْوَتْ عَنْهُ شَيْئًا، ثُمَّ بَلَغَنِي أَنَّهُ وُلِدَ لَهُ ابْنَةٌ وَقَدْ بَلَغَتْ، فَقُلْتُ: انْقُلْ إِلَيَّ أَهْلِي، فَأَبَى إِلَّا بِصَدَاقٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَبِقَدْرِ أَيِّ النِّسَاءِ هِيَ؟» ، قَالَ: قَدْ رَأَتِ الْقَتِيرَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرٌ لَكَ أَنْ لَا تَأْثَمَ وَلَا تُؤْثِمَ، دَعْهَا عَنْكَ»سیدنا کردم بن سفیان ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے اس کی طرف کان لگایا، تو اس نے کہا: جیشِ عثران والے سال کو یاد کیجیے، راوی کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے اس لشکر کو پہچان لیا۔ (اس نے کہا:) میں اس لشکر میں تھا، تو طارق بن مرقع نے کہا: کون مجھے ایک نیزہ اس کے بدلے کے عوض دے گا؟ میں نے کہا: اس کا بدلہ کیا ہے؟ اس نے کہا: میرے ہاں جو پہلی بیٹی پیدا ہو گی اس کا نکاح اس سے کر دوں گا۔ تو میں نے اسے اپنا نیزہ دے دیا اور پھر کچھ عرصہ اس سے دور رہا، پھر مجھے پتا چلا کہ اس کی ایک بیٹی پیدا ہوئی تھی جو بالغ ہو چکی ہے، تو میں نے کہا: میری بیوی کو میرے پاس بھیج دو۔ اس نے مہر کے بغیر انکار کر دیا۔ نبی کریم ﷺ نے پوچھا: ”وہ کس عمر کی عورتوں کے برابر ہے؟“ اس نے کہا: وہ بڑھاپے کے آثار دیکھ چکی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تیرے لیے بہتر یہی ہے کہ نہ تو خود گناہ گار بنے نہ اسے گناہ گار بنائے، اسے چھوڑ دے۔“