حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَآهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَلَهُ وَفْرَةٌ وَبِأَصْلِ كُلِّ شَعْرَةٍ وَبِأَعْلَاهُ قَمْلَةٌ أَوْ صَؤَابٌ، فَقَالَ: «إِنَّ هَذَا لَأَذًى، أَتَجِدُ نُسُكًا؟» ، قَالَ: لَا، قَالَ: «فَانْطَلِقْ أَوْجِزْهُ، فَإِنْ شِئْتَ فَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينٍ، بَيْنَ كُلِّ مِسْكِينَيْنِ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ»
ترجمہ
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انہیں دیکھا جبکہ وہ احرام میں تھے، ان کے سر کے بال گھنے تھے، اور ہر بال کی جڑ اور اوپری سرے پر جوئیں یا اس کے انڈے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تو ضرور تکلیف دہ ہے، کیا تمہیں قربانی میسر ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ اور اسے صاف کرو، اگر چاہو تو تین دن کے روزے رکھو، یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ، ہر دو مسکینوں کے درمیان ایک صاع کھجور۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ، وَزَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، قَالُوا: ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: «إِنْ شِئْتَ فَانْسُكْ نَسِيكَةً، وَإِنْ شِئْتَ فَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَإِنْ شِئْتَ فَأَطْعِمْ ثَلَاثَةَ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ سِتَّ مَسَاكِينٍ»
ترجمہ
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اگر چاہو تو قربانی کرو، اور اگر چاہو تو تین دن کے روزے رکھو، اور اگر چاہو تو چھ مسکینوں کو تین صاع کھجور کھلاؤ۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ الْعَمِّيُّ، ثنا وُهَيْبٌ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ، قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ وَعَلَيَّ وَفْرَةٌ مِنْ أَصْلِ كُلِّ شَعْرَةٍ إِلَى فَرْعِهَا قَمْلٌ وَصِئْبَانٌ، فَقَالَ: «إِنَّ هَذَا لَأَذًى» ، قُلْتُ: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «فَاحْلِقْ وَاذْبَحْ أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ تَصَدَّقْ بِثَلَاثَةِ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ عَلَى سِتَّةِ مَسَاكِينٍ»
ترجمہ
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ حدیبیہ کے سال میرے پاس سے گزرے جبکہ میرے سر کے بال گھنے تھے اور ہر بال کی جڑ سے لے کر سرے تک جوئیں اور ان کے انڈے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تو تکلیف دہ ہے۔“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، یا رسول اللہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو سر منڈوا لو اور قربانی کرو، یا تین دن کے روزے رکھو، یا چھ مسکینوں کو تین صاع کھجور صدقہ دو۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عَامِرٍ، حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ، قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ وُهَيْبٍ، وَلَمْ يَدْخُلْ وُهَيْبٌ وَلَا بِشْرٌ بَيْنَ الشَّعْبِيِّ وَكَعْبِ بْنِ أَبِي لَيْلَى
ترجمہ
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ حدیبیہ کے سال میرے پاس سے گزرے - پھر راوی نے وہیب کی حدیث کی طرح آگے بیان کیا۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وہیب اور بشر، دونوں نے شعبی اور کعب بن عجرہ کے درمیان سند میں ابن ابی لیلیٰ کا واسطہ ذکر نہیں کیا۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وہیب اور بشر، دونوں نے شعبی اور کعب بن عجرہ کے درمیان سند میں ابن ابی لیلیٰ کا واسطہ ذکر نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا. يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ حدیبیہ میں میرے پاس سے گزرے - پھر راوی نے آگے اسی طرح کی حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُسْتَمْلِي، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، وَزَادَ مَعْمَرٌ فِي حَدِيثِهِ: «بَيْنَ كُلِّ مِسْكِينَيْنِ صَاعٌ»
ترجمہ
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے نبی کریم ﷺ کے واسطے سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: معمر نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا: ”ہر دو مسکینوں کے درمیان ایک صاع۔“
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: معمر نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا: ”ہر دو مسکینوں کے درمیان ایک صاع۔“
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَفَّانُ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، بِهَذَا الْحَدِيثِ
ترجمہ
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے بھی یہی حدیث مروی ہے۔