المعجم الكبير للطبراني
باب الكاف— حرف کاف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الشعبي، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى باب: شعبی کی عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایات
حدیث نمبر: 16293
حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَآهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَلَهُ وَفْرَةٌ وَبِأَصْلِ كُلِّ شَعْرَةٍ وَبِأَعْلَاهُ قَمْلَةٌ أَوْ صَؤَابٌ، فَقَالَ: «إِنَّ هَذَا لَأَذًى، أَتَجِدُ نُسُكًا؟» ، قَالَ: لَا، قَالَ: «فَانْطَلِقْ أَوْجِزْهُ، فَإِنْ شِئْتَ فَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينٍ، بَيْنَ كُلِّ مِسْكِينَيْنِ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ»ترجمہ
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انہیں دیکھا جبکہ وہ احرام میں تھے، ان کے سر کے بال گھنے تھے، اور ہر بال کی جڑ اور اوپری سرے پر جوئیں یا اس کے انڈے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تو ضرور تکلیف دہ ہے، کیا تمہیں قربانی میسر ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ اور اسے صاف کرو، اگر چاہو تو تین دن کے روزے رکھو، یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ، ہر دو مسکینوں کے درمیان ایک صاع کھجور۔“