حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ حُبَابٍ، ثَنَا أَبُو هَمَّامٍ الدَّلَّالُ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَبَّبٍ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي جَنَابٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ هَانِي، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ مِسِّيكٍ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أُقَاتِلُ بِمَنْ أَقْبَلَ مِنْ قَوْمِي مَنْ أَدْبَرَ مِنْهُمْ؟ قَالَ: «نَعَمْ» فَلَمَّا أَدْبَرَ دَعَاهُ فَقَالَ: «أَدْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَإِنْ أَبَوْا فَقَاتِلْهُمْ» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ فَأَخْبِرْنِي عَنْ سَبَأٍ أَرَجُلٌ هُوَ أَمْ امْرَأَةٌ هِيَ؟ قَالَ: «هُوَ رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ وَلَدَ عَشَرَةً تَيَامَنَ مِنْهُمْ سِتَّةٌ، وَتَشَاءَمَ مِنْهُمْ أَرْبَعَةٌ، فَأَمَّا الَّذِينَ تَيَامَنُوا فَالْأَزْدُ، وَكِنْدَةُ، وَمَذْحِجٌ، وَالْأَشْعَرِيُّونَ، وَحِمْيَرُ، وَأنْمَارٌ مِنْهُمْ بَجِيلَةُ، وَأَمَّا الَّذِينَ تَشَاءَمُوا فَعَامِلَةُ، وَغَسَّانُ، وَلَخْمٌ، وَجُذَامُ»
ترجمہ
سیدنا فروہ بن مسیک مرادی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں اپنی قوم میں سے جو (اسلام کی طرف) آگے بڑھے ان کے ذریعے ان سے لڑوں جو پیچھے ہٹ گئے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ پھر جب وہ رخصت ہونے لگے تو آپ نے انہیں بلایا اور فرمایا: ”پہلے انہیں اسلام کی دعوت دو، اگر وہ انکار کریں تو ان سے لڑو۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے سبا کے بارے میں بتائیے، کیا وہ مرد تھا یا عورت؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ عرب کا ایک آدمی تھا، جس کے دس بیٹے ہوئے، ان میں سے چھ نے یمن کی طرف رخ کیا اور چار نے شام کی طرف۔ جنہوں نے یمن کی طرف رخ کیا وہ ازد، کندہ، مذحج، اشعریون، حمیر، اور انمار (جن میں سے بجیلہ ہیں) تھے، اور جنہوں نے شام کی طرف رخ کیا وہ عاملہ، غسان، لخم، اور جذام تھے۔“
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، ثَنَا عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ الرَّمْلِيُّ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ مِسِّيكٍ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ لَنَا جِيرَةً مِنْ سَبَأٍ أَهْلَ عَزٍّ وَمُلْكٍ وَجَبَرُوتٍ فَائْذَنْ لِي أَنْ أَدْعُوَهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَإِنْ أَبَوْا فَائْذَنْ لِي أَنْ أُقَاتِلَهُمْ بِقَوْمِي وَمَنْ أَطَاعَنِي، فَأَذِنَ لَهُ ثُمَّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَا لَهُ فَقَالَ: «إِنَّكَ ذَكَرْتَ مِنْ أَمْرِ سَبَأٍ مَا ذَكَرْتَ، فَادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَإِنْ أَجَابُوكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ، وَاكْفُفُ عَنْهُمْ، وَإِنْ أَبَوْا فَلَا تَعْرَضْ لَهُمْ حَتَّى يَأْتِيكَ أَمْرِي» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ سَبَأً، أَرْضٌ أَو امْرَأَةٌ؟ فَقَالَ: " لَيْسَ بِأَرْضٍ وَلَا امْرَأَةٍ وَلَكِنْ رَجُلٌ وَلَدَ عَشَرَةَ قَبَائِلَ، تَيَامَنَ مِنْهُمْ سِتَّةٌ وَتَشَاءَمَ أَرْبَعَةٌ، فَاليَمَانِيُّونَ مَذْحِجٌ، وَالْأَزْدُ، وَكِنْدَةُ، وَحِمْيَرُ، وَالْأَشْعَرِيُّونَ، وَأنْمَارٌ فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا أَنْمَارٌ؟ فَقَالَ: أَبُو بَجِيلَةَ، وَخَثْعَمَ، وَتَشَاءَمَ مِنْهُمْ أَرْبَعَةٌ لَخْمٌ، وَجُذَامُ، وَغَسَّانُ، وَعَامِلَةُ "
ترجمہ
(سیدنا فروہ رضی اللہ عنہ نے کہا:) اگر وہ انکار کریں تو مجھے اجازت دیجیے کہ میں اپنی قوم اور جو میری اطاعت کرے ان کے ساتھ ان سے لڑوں، تو آپ ﷺ نے انہیں اجازت دے دی۔ پھر رسول اللہ ﷺ کا خیال بدلا اور فرمایا: ”تم نے سبا کے بارے میں جو ذکر کیا، سو پہلے انہیں اسلام کی دعوت دو، اگر وہ تمہیں جواب دے دیں تو ان سے قبول کر لو اور ان سے رک جاؤ، اور اگر انکار کریں تو ان سے تعرض نہ کرو یہاں تک کہ میرا حکم تمہارے پاس آئے۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! سبا کیا ہے، زمین ہے یا عورت؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہ زمین ہے نہ عورت، بلکہ ایک آدمی تھا جس کے دس قبیلے ہوئے، ان میں سے چھ نے یمن کی طرف رخ کیا اور چار نے شام کی طرف۔ یمنی قبیلے مذحج، ازد، کندہ، حمیر، اشعریون، اور انمار ہیں۔“ ایک آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! انمار کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ بجیلہ اور خثعم کے باپ ہیں۔ اور جنہوں نے شام کی طرف رخ کیا وہ چار ہیں: لخم، جذام، غسان، اور عاملہ۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثَنَا أُسَامَةُ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحَكَمِ النَّخَعِيُّ، ثَنَا أَبُو سَبْرَةَ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ مِسِّيكٍ الْمُرَادِيُّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَا أُقَاتِلُ مَنْ أَدْبَرَ مِنْ قَوْمِي بِمَنْ أَقْبَلَ مِنْهُمْ؟ قَالَ: «بَلَى» ثُمَّ بَدَا لِي فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ لَا، بَلْ أَهْلُ سَبَأٍ هُمْ أَعَزُّ وَأَشَدُّ قُوَّةً، فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأْذِنَ لِي فِي قِتَالِ سَبَأٍ، فَلَمَّا خَرَجْتُ مِنْ عِنْدَهُ أَنْزَلَ اللهُ فِي سَبَأٍ مَا أَنْزَلَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا فَعَلَ الْغَطَفَانِيُّ» ؟ فَأَرْسَلَ إِلَى مَنْزِلِي فَوَجَدَنِي قَدْ سِرْتُ فَرَدَّنِي، فَلَمَّا أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُهُ قَاعِدًا فِي أَصْحَابِهِ فَقَالَ: «ادْعُ الْقَوْمَ، فَمَنْ أَجَابَكَ مِنْهُمْ فَاقْبَلْ، وَمَنْ أَبَى فَلَا تَعْجَلْ حَتَّى تُحَدِّثَ إِلَيَّ» فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا سَبَأٌ؟ أَرْضٌ أَو امْرَأَةٌ؟ قَالَ: " لَيْسَتْ بِأَرْضٍ وَلَا امْرَأَةٍ وَلَكِنَّهُ وَلَدَ عَشَرَةَ مِنَ الْعَرَبِ، فَأَمَّا سِتَّةٌ فَتَيَامَنُوا، وَأَمَّا أَرْبَعَةٌ فَتَشَاءَمُوا، وَأَمَّا الَّذِينَ تَشَاءَمُوا فَلَخْمٌ، وَجُذَامُ، وَعَامِلَةُ، وَغَسَّانُ، وَأَمَّا الَّذِينَ تَيَامَنُوا فَالأَزْدُ، وَكِنْدَةُ، وَحِمْيَرُ، وَالْأَشْعَرِيُّونَ، وَأنْمَارٌ، وَمَذْحِجٌ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا أَنْمَارٌ؟ قَالَ: هُمُ الَّذِينَ بَجِيلَةُ، وَخَثْعَمُ "
ترجمہ
سیدنا فروہ بن مسیک مرادی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں اپنی قوم میں سے پیچھے ہٹ جانے والوں سے آگے بڑھنے والوں کے ذریعے نہ لڑوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیوں نہیں۔“ پھر میرا خیال بدلا تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! نہیں، بلکہ اہل سبا زیادہ باعزت اور طاقتور ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا اور سبا سے لڑنے کی اجازت دے دی۔ جب میں آپ کے پاس سے نکلا تو اللہ نے سبا کے بارے میں جو نازل کیا نازل فرمایا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”غطفانی کا کیا ہوا؟“ تو آپ نے میرے گھر پیغام بھیجا، مجھے روانہ ہوا پایا تو مجھے واپس بلا لیا۔ جب میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو آپ کو اپنے صحابہ میں بیٹھا پایا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”قوم کو دعوت دو، پھر جو تمہیں جواب دے اس سے قبول کرو، اور جو انکار کرے تو جلدی نہ کرو یہاں تک کہ مجھ سے بات کر لو۔“ قوم میں سے ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! سبا کیا ہے؟ زمین ہے یا عورت؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہ زمین ہے نہ عورت، بلکہ وہ عرب کے دس بیٹوں کا باپ تھا، ان میں سے چھ نے یمن کی طرف رخ کیا اور چار نے شام کی طرف۔ جنہوں نے شام کی طرف رخ کیا وہ لخم، جذام، عاملہ، اور غسان تھے، اور جنہوں نے یمن کی طرف رخ کیا وہ ازد، کندہ، حمیر، اشعریون، انمار، اور مذحج تھے۔“ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! انمار کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ لوگ ہیں جن میں سے بجیلہ اور خثعم ہیں۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، فَحَدَّثَنِي مُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ مِسِّيكٍ الْمُرَادِيِّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَكَرِهْتَ يَوْمِيكُمْ وَيَوْمَي هَمْدَانَ؟» قَالَ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ فَنَاءُ الْأَهْلِ وَالْعَشِيرَةِ، فَقَالَ: «أَمَا أَنَّهُ خَيْرٌ لِمَنْ بَقِيَ مِنْكُمْ»
ترجمہ
سیدنا فروہ بن مسیک مرادی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”کیا تمہیں اپنے شکست کے دن اور ہمدان کے (فتح کے) دن ناگوار گزرے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، یا رسول اللہ! اہل اور قبیلے کی تباہی کی وجہ سے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سن لو، یہ تم میں سے جو باقی رہے اس کے لیے بہتر ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَمْرٍو الْعَدَنِيُّ، ثَنَا فَرَجُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَلْقَمَةَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ، حَدَّثَنِي عَمِّي، ثَابِتُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ فَرْوَةَ بْنَ مِسِّيكٍ الْمُرَادِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ سَبَأٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا سَبَأٌ؟ أَرَجُلٌ أَمْ جَبَلٌ أَمْ وَادٍ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا، بَلْ رَجُلٌ وَلَدَ عَشَرَةَ فَتَشَاءَمَ أَرْبَعَةٌ، وَتَيَامَنَ سِتَّةٌ، تَشَاءَمَ لَخْمٌ، وَجُذَامُ، وَعَامِلَةُ، وَغَسَّانُ، وَتَيَامَنَ حِمْيَرُ، وَمَذْحِجٌ، وَالْأَزْدُ، وَكِنْدَةُ، وَالْأَشْعَرِيُّونَ، وَأنْمَارٌ الَّتِي مِنْهَا بَجِيلَةُ»
ترجمہ
(سیدنا فروہ رضی اللہ عنہ) نے رسول اللہ ﷺ سے سبا کے بارے میں پوچھا: یا رسول اللہ! سبا کیا ہے؟ آدمی ہے یا پہاڑ یا وادی؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ ایک آدمی تھا جس کے دس بیٹے ہوئے، چار نے شام کی طرف رخ کیا اور چھ نے یمن کی طرف۔ شام کی طرف رخ کرنے والے لخم، جذام، عاملہ، اور غسان تھے، اور یمن کی طرف رخ کرنے والے حمیر، مذحج، ازد، کندہ، اشعریون، اور انمار تھے، جن میں سے بجیلہ ہیں۔“