المعجم الكبير للطبراني
باب الفاء— حرف فا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
فروة بن نعامة، ويقال نباتة، ويقال عامر الجذامي باب: سیدنا فروہ بن نعامہ جذامی رضی اللہ عنہ، انہیں نباتہ اور عامر بھی کہا جاتا ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الصَّائِغُ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ الْجَعْفَرِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَمَةَ الرَّبْعِيُّ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بُعِثَ إِلَي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرْوَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُذَامِيُّ بِإِسْلَامِهِ وَأَهْدَى لَهُ بَغْلَةً بَيْضَاءَ، وَكَانَ فَرْوَةُ غُلَامًا لِقَيْصَرَ مَلِكِ الرُّومِ عَلَى مَنْ يَلِيهِ مِنَ الْعَرَبِ وَكَانَ مَنْزِلُهُ عُمَانَ وَمَا حَوْلَهَا، فَلَمَّا بَلَغَ الرُّومُ ذَلِكَ مِنْ أَمْرِهِ حَبَسُوهُ، فَقَالَ فِي مَحْبَسِهِ:
[البحر الكامل]
طَرَقَتْ سُلَيْمَى مُوهِنًا أَصْحَابِي ... وَالرُّومُ بَيْنَ الْبَابِ وَالْقَرَوانِ
صَدَّ الخَيَالَ وَسَاءَنِي مَا قَدْ أَرَى ... فَهَمَمْتُ أَنْ أَغْفَى وَقَدْ أَبْكَانِي
لَا تَكْحِلَنَّ الْعَيْنَ بَعْدِي أَثْمُدًا ... سَلْمَى وَلَا تَدِينِ لِلْآتِيَانِ
وَلَقَدْ عَلِمْتَ أَبَا كُبَيْشَةَ أَنَّنِي ... وَسَطُ الأَعِزَّةِ لَا يُحْصَى لِسَانِي
فَلَئِنْ هَلَكْتُ لَتَفْقِدَنَّ أَخَاكُمُ ... وَلَئِنْ أُحْيِيتُ لَتَعْرِفَنَّ مَكَانِي
وَلَقَدْ عَرَفْتَ بِكُلِّ مَا جَمَعَ الْفَتَى ... مِنْ رَأْيِهِ وَبِنَجْدِهِ وَبَيَانِي
قَالَ: فَلَمَّا أَجْمَعُوا عَلَى صَلْبِهِ صَلَبُوهُ عَلَى مَاءٍ يُقَالُ لَهُ عَفْرَاءُ فِلَسْطِينَ فَلَمَّا رُفِعَ عَلَى خَشَبَةٍ قَالَ:
[البحر الطويل]
أَلَا هَل أَتَى سَلْمَى بِأَنَّ حَلِيلَهَا ... عَلَى مَاءِ عَفْرَاءَ فَوْقَ إِحْدَى الرَّوَاحِلِ
بِخراقة لَمْ يَضْرِفِ الْفَحْلُ أُمَّهَا ... مُشَذَّبَةً أَطْرَافِهَا بِالْمَنَاجِلِ
وَقَالَ:
بَلِّغ سُرَاةَ الْمُسْلِمِينَ بِأَنَّني ... سَلَّمَ لِرَبِّي أَعْظُمِي وَبَنَانِيسیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کے پاس فروہ بن عامر جذامی رضی اللہ عنہ نے اپنے اسلام لانے کی خبر بھیجی اور آپ کو ایک سفید خچر ہدیہ کیا۔ فروہ روم کے بادشاہ قیصر کے ماتحت ان عربوں پر حاکم تھے جو اس کے زیرِ اثر تھے، اور ان کا مقام عمان اور اس کے گرد و نواح میں تھا۔ جب رومیوں کو ان کے اس معاملے کی خبر ہوئی تو انہوں نے انہیں قید کر لیا، تو انہوں نے اپنی قید میں یہ اشعار کہے: رات کے کسی پہر سلمیٰ کا خیال میرے ساتھیوں کے پاس آیا، جبکہ رومی میرے اور میرے وطن کے دروازے اور قروان کے درمیان حائل تھے۔
اس خیال نے مجھے روکا اور جو کچھ میں دیکھ رہا ہوں اس نے مجھے غمگین کر دیا، سو میں نے چاہا کہ سو جاؤں، مگر مجھے رلا دیا۔
اے سلمیٰ! میرے بعد آنکھوں میں سرمہ مت لگانا، اور نہ کسی آنے والے کی اطاعت کرنا۔
اے ابوکبیشہ! تم جانتے ہو کہ میں معزز لوگوں کے درمیان ایسا ہوں کہ میری زبان شمار نہیں کی جا سکتی۔
اگر میں مر گیا تو تم اپنے بھائی کو کھو دو گے، اور اگر میں زندہ رہا تو تم میری قدر و منزلت پہچان لو گے۔
اور تم نے اس نوجوان کے ہر اس وصف کو پہچان لیا ہے جو اس کی رائے، اس کی بہادری اور اس کی فصاحت میں جمع تھا۔
راوی کہتے ہیں: جب رومیوں نے انہیں صلیب دینے کا فیصلہ کر لیا تو انہوں نے انہیں فلسطین میں ایک پانی کے مقام پر، جسے عفراء کہا جاتا تھا، صلیب دے دی۔ جب انہیں لکڑی پر اٹھایا گیا تو انہوں نے کہا: خبردار! کیا سلمیٰ کو یہ خبر پہنچی کہ اس کا خاوند عفراء کے پانی پر، ایک سواری کے اوپر ہے؟
ایسی لکڑی پر، جس کی جڑ کو نر کھجور کے درخت نے پیوند نہیں کیا، اور جس کی شاخیں درانتیوں سے کاٹی گئی ہیں۔
اور انہوں نے یہ بھی کہا: مسلمانوں کے سرداروں کو پہنچا دو کہ میں نے اپنی ہڈیاں اور اپنی انگلیاں اپنے رب کے سپرد کر دی ہیں۔