کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: مجاہد کی، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے واسطے سے، سیدنا فضل رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ الْكُوفِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ، ثنا يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، وَمُوسَى بْنُ هَارُونَ، قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَالَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ: «كُنْتُ رِدْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا زِلْتُ أَسْمَعْهُ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، فَلَمَّا رَمَاهَا قَطَعَ التَّلْبِيَةَ» وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ الْحَسَنِ بْنِ الرَّبِيعِ
ترجمہ
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سوار تھا، اور میں برابر آپ کو تلبیہ کہتے سنتا رہا یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں، جب آپ نے کنکریاں ماریں تو تلبیہ موقوف کر دیا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَعِكْرِمَةَ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَّى حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ»
ترجمہ
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ تلبیہ کہتے رہے یہاں تک کہ جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى الزُّهْرِيُّ، أَنَا الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَنِي الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ، أَخِي قَالَ: " وَاللهِ لَأَرْدَفَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ جَمْعٍ، قَالَ: وَدَفَعَ مَعَنَا رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ وَهُوَ مَعَهُ ابْنَةٌ لَهُ صَبِيحَةٌ، وَهُوَ يُسَايِرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَالَ وَجْهِي عَنْهَا، فَلَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ "
ترجمہ
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بھائی، بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ نے مجھے مزدلفہ کی صبح اپنے پیچھے سوار کیا۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ اعراب میں سے ایک آدمی روانہ ہوا جس کے ساتھ اس کی ایک خوبصورت بیٹی تھی، وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا، تو آپ ﷺ نے میرا چہرہ اس سے پھیر دیا، اور آپ برابر تلبیہ کہتے رہے یہاں تک کہ جمرہ کو کنکریاں ماریں۔
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَجِيحٍ، وَأَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، " وَكَانَ رَدِيفُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَبِيحَةَ الْمُزْدَلِفَةِ قَالَ: «لَمْ أَزَلْ أَسْمَعْهُ يُهِلُّ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْجَمْرَةِ، فَلَمَّا رَمَى بِهَا أَمْسَكَ»
ترجمہ
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ، جو مزدلفہ کی صبح نبی کریم ﷺ کے پیچھے سوار تھے، بیان کرتے ہیں: میں برابر آپ ﷺ کو تلبیہ کہتے سنتا رہا یہاں تک کہ جمرہ تک پہنچے، جب آپ نے اسے کنکریاں ماریں تو رک گئے۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ عِمْرَانَ السَّدُوسِيُّ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَعَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَا أُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ فِي الْكَعْبَةِ، مَنْ صَلَّى فِيهَا فَقَدْ تَرَكَ شَيْئًا خَلْفَهُ، وَلَكِنْ حَدَّثَنِي أَخِي، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَهَا خَرَّ بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ سَاجِدًا، ثُمَّ قَعَدَ قَاعِدًا، وَلَمْ يُصَلِّ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں یہ پسند نہیں کرتا کہ کعبہ کے اندر نماز پڑھوں، جو اس میں نماز پڑھے وہ (کعبہ کے فضائل میں سے) کچھ چیز پیچھے چھوڑ دیتا ہے، البتہ مجھے میرے بھائی (فضل رضی اللہ عنہ) نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ جب کعبہ میں داخل ہوئے تو دونوں ستونوں کے درمیان سجدے میں گر پڑے، پھر بیٹھ گئے، اور نماز نہیں پڑھی۔