المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عرباض بن سارية السلمي يكنى أبا نجيح باب: سیدنا عرباض بن ساریہ سلمی رضی اللہ عنہ، جن کی کنیت ابونجیح تھی
حدیث نمبر: 15706
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي الْفَيْضِ، قَالَ: شَهِدْتُ مُعَاوِيَةَ وَأَعْطَى الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ حِمَارًا فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُقَالُ لَهُ الْعِرْبَاضُ بْنُ سَارِيَةَ فَقَالَ: «مَالَكَ أَنْ تَأْخُذَهُ، وَمَا لِمُعَاوِيَةَ أَنْ يُعْطِيَكَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَحْمِلُهُ عَلَى عُنُقِكَ، رَأْسُهُ أَسْفَلُهُ»ترجمہ
ابوالفیض بیان کرتے ہیں: میں معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر تھا، انہوں نے مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کو ایک گدھا دیا، تو نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے ایک صحابی، جنہیں عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا، کھڑے ہوئے اور فرمانے لگے: ”نہ تمہیں یہ لینے کا حق ہے اور نہ معاویہ کو یہ دینے کا حق ہے، گویا میں قیامت کے دن تمہیں دیکھ رہا ہوں کہ تم اسے اپنی گردن پر اٹھائے ہوئے ہو، اس کا سر نیچے کی طرف ہے۔“