المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عرباض بن سارية السلمي يكنى أبا نجيح باب: سیدنا عرباض بن ساریہ سلمی رضی اللہ عنہ، جن کی کنیت ابونجیح تھی
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، أَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مِقْلَاصٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ يُحِبُّ أَنْ يُقْبَضَ إِلَيْهِ كَانَ يَدْعُو: «اللهُمَّ كَبِرَتْ سِنِّي، وَوَهَنَ عَظْمِي، فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ» ، قَالَ: فَبَيْنَا أَنَا يَوْمًا فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ، إِذَا فَتًى شَابٌّ مِنْ أَجْمَلِ الرِّجَالِ، وَعَلَيْهِ دَوَّاحٌ أَخْضَرُ، فَقَالَ: مَا هَذَا الَّذِي تَدْعُو بِهِ؟ فَقُلْتُ: «كَيْفَ أَدْعُو يَا ابْنَ أَخِي؟» قَالَ: قُلْ: اللهُمَّ أَحْسِنِ الْعَمَلَ، وَبَلِّغِ الْأَجَلَ، قُلْتُ: «مَنْ أَنْتَ يَرْحَمُكَ اللهُ؟» قَالَ: أَنَا رِيبَائِيلُ الَّذِي يُسَلُّ الْحُزْنَ مِنْ قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَسیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے ایک عمر رسیدہ بزرگ تھے، اور یہ پسند کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ انہیں (جلد) اپنے پاس بلا لے، چنانچہ یہ دعا کیا کرتے تھے: ”اے اللہ! میری عمر زیادہ ہو گئی اور میری ہڈیاں کمزور پڑ گئیں، سو مجھے اپنے پاس بلا لے۔“ سیدنا عرباض رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں دمشق کی مسجد میں تھا کہ ایک نہایت خوبصورت نوجوان سامنے آیا جس نے سبز رنگ کی چادر اوڑھ رکھی تھی، اس نے پوچھا: یہ کیا دعا ہے جو تم کر رہے ہو؟ میں نے کہا: بھتیجے! میں کیسے دعا کروں؟ اس نے کہا: کہو: ”اے اللہ! میرے عمل کو اچھا بنا دے اور (میری) موت کا وقت پہنچا دے۔“ میں نے پوچھا: تم کون ہو، اللہ تم پر رحم کرے؟ اس نے کہا: میں ریبائیل (نامی فرشتہ) ہوں، جو مومنوں کے دلوں سے غم دور کرتا ہوں۔