کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: مطرف بن عبداللہ بن شخیر کی سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایات؛ ابوالعلاء یزید بن عبداللہ بن شخیر کی اپنے بھائی مطرف سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ثنا الضَّحَّاكُ بْنُ يَسَارٍ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ، فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الضُّعَفَاءُ، وَاطَّلَعْتُ فِي النَّارِ، فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءُ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میں نے جنت میں جھانکا تو دیکھا کہ اس کے زیادہ تر باشندے کمزور لوگ ہیں، اور میں نے جہنم میں جھانکا تو دیکھا کہ اس کے زیادہ تر باشندے عورتیں ہیں۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْعُلَى الدِّمَشْقِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ثنا مُحَمَّدٌ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّهُ قَالَ: اعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْمَرَ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِهِ فِي الْعَشْرِ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ تَنْزِلْ آيَةٌ نَسَخَتْهَا حَتَّى تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ يُقَاتِلُونَ عَلَى الْإِسْلَامِ ظَاهِرِينَ عَلَى مَنْ نَاوَأَهُمْ حَتَّى يُقَاتِلُونَ الدَّجَّالَ»
ترجمہ
… اسے رسول اللہ ﷺ نے منع نہیں فرمایا، اور نہ ہی کوئی ایسی آیت نازل ہوئی جو اسے منسوخ کرتی، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات ہو گئی۔ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اہل اسلام کی ایک جماعت ہمیشہ اسلام کے لیے لڑتی رہے گی، اپنے مخالفوں پر غالب رہے گی، یہاں تک کہ وہ دجال سے لڑیں گے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْمَرَ بَعْضُ أَهْلِهِ فِي الْعَشْرِ» وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنُ كَثِيرٍ وَلَا الْفِرْيَابِيُّ فِي حَدِيثِهِمَا مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، وَجَوَّدَهُ وَكِيعٌ
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے کچھ گھر والوں کو ذوالحجہ کے دس دنوں میں عمرہ کروایا۔ ابن کثیر اور فریابی نے اپنی روایت میں مطرف بن عبداللہ کا ذکر نہیں کیا، اور وکیع نے اسے درست بیان کیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ قَالَا: ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ أَخِيهِ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: اعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْمَرَ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِهِ فِي الْعَشْرِ، ثُمَّ لَمْ يَنْهَ عَنْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَنْزِلْ فِيهَا قُرْآنًا، فَقَالَ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ "
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جان لو کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے گھر والوں کے ایک گروہ کو ذوالحجہ کے دس دنوں میں عمرہ کروایا، پھر رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع نہیں فرمایا، اور نہ ہی اس بارے میں کوئی قرآن نازل ہوا، تو کسی آدمی نے اپنی رائے سے جو چاہا کہا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْحِنَّائِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: «اعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْمَرَ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِهِ فِي الْعَشْرِ، وَلَمْ تَنْزِلْ آيَةٌ تَنْسَخُ ذَلِكَ، وَلَمْ يَنْهَ عَنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جان لو کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے گھر والوں کے ایک گروہ کو دس دنوں میں عمرہ کروایا، اور نہ کوئی آیت اسے منسوخ کرنے کے لیے نازل ہوئی، اور نہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: «اعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْمَرَ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِهِ فِي عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ، فَلَمْ يَنْهَ عَنْهُ وَلَمْ يَنْزِلْ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جان لو کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے گھر والوں کے ایک گروہ کو ذی الحجہ کے دس دنوں میں عمرہ کروایا، تو نہ اس سے منع فرمایا اور نہ کوئی آیت نازل ہوئی۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ أَخِيهِ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ فُلَانًا لَا يُفْطِرُ الدَّهْرَ قَالَ: «لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: عرض کیا گیا: یا رسول اللہ، فلاں شخص ہمیشہ روزہ رکھتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہ اس نے روزہ رکھا نہ افطار کیا۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْحِنَّائِيُّ ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ح وَحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أنا خَالِدٌ، ح وَحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ عِمْرَانَ السَّدُوسِيُّ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، كُلُّهُمْ عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے بھی نبی کریم ﷺ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الرَّقِّيُّ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ فُلَانًا لَا يُفْطِرُ نَهَارًا، قَالَ: «لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: عرض کیا گیا: یا رسول اللہ، فلاں شخص دن میں کبھی روزہ نہیں توڑتا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہ اس نے روزہ رکھا نہ افطار کیا۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَهُ أَوْ لِرَجُلٍ: «صُمْتَ مِنْ شَهْرِ شَعْبَانَ شَيْئًا؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ يَوْمَيْنِ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے یا کسی اور آدمی سے فرمایا: ”کیا تم نے شعبان کے مہینے میں کچھ روزہ رکھا؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو جب تم روزہ چھوڑو تو دو دن روزہ رکھو۔“
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ثنا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «هَلْ صُمْتَ مِنْ سُرَرِ هَذَا الشَّهْرِ؟» قُلْتُ: لَا وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «فَإِذَا أَفْطَرْتَ رَمَضَانَ فَصُمْ مَكَانَ ذَلِكَ الْيَوْمِ يَوْمَيْنِ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نے اس مہینے کے آخری دنوں میں کچھ روزہ رکھا؟“ میں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم، یا رسول اللہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو جب تم رمضان کے دن چھوڑو تو اس دن کی جگہ دو دن روزہ رکھو۔“
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أنا خَالِدٌ، ح وَحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ عِمْرَانَ السَّدُوسِيُّ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، كُلُّهُمْ عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے بھی نبی کریم ﷺ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ، ثنا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو زَيْدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ أَخِيهِ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ أَوْ لِغَيْرِهِ: «أَصُمْتَ سِرَارَ هَذَا الشَّهْرِ؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «إِذَا أَفْطَرَ النَّاسُ أَوْ أَفْطَرْتَ فَصُمْ يَوْمَيْنِ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے یا کسی اور سے فرمایا: ”کیا تم نے اس مہینے کے آخری دنوں میں روزہ رکھا؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب لوگ روزہ چھوڑیں - یا جب تم روزہ چھوڑو - تو دو دن روزہ رکھو۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ، ثنا يَحْيَى أَبُو أَيُّوبَ الْخَاقَانِيُّ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَسْلَمْتُ فَمَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: قُلْ: «اللهُمَّ إِنِّي أَسْتَهْدِيكَ أَمْرِي، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي»
ترجمہ
سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ، میں اسلام لے آیا ہوں، آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا، کہو: ”اے اللہ! میں اپنے معاملے میں تجھ سے ہدایت مانگتا ہوں، اور اپنے نفس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ النَّرْسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «عَامَّةُ أَهْلِ النَّارِ النِّسَاءُ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جہنم والوں کی اکثریت عورتیں ہیں۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَمِّي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ: «أَصُمْتَ سُرَرَ هَذَا الشَّهْرِ؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ مَكَانَهُ يَوْمَيْنِ» فَسَأَلْتُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِهِ عَمَّنْ يُحَدِّثُ هَذَا أَبُو الْعَلَاءِ؟ فَقَالَ: عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی سے فرمایا: ”کیا تم نے اس مہینے کے آخری دنوں میں روزہ رکھا؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم روزہ چھوڑو تو اس کی جگہ دو دن روزہ رکھو۔“ میں نے ابوالعلاء کے گھر والوں میں سے ایک آدمی سے پوچھا کہ ابوالعلاء یہ کس سے بیان کرتے ہیں؟ اس نے بتایا: عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے، نبی کریم ﷺ سے۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ عِمْرَانَ السَّدُوسِيُّ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ قَالَ: قَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ: «مَا كُنْتُ لِأَكْتَوِي بَعْدَ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الْكَيِّ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو داغ (کَی) کے بارے میں جو کچھ فرماتے سنا اس کے بعد کبھی داغ نہیں لگوایا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ فُلَانًا يَصُومُ الدَّهْرَ قَالَ: «لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: عرض کیا گیا: یا رسول اللہ، فلاں شخص ہمیشہ روزہ رکھتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہ اس نے روزہ رکھا نہ افطار کیا۔“