کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: کثیر بن مرہ حضرمی کی سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي عَرِيبٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَبِيَدِهِ عَصًا فَرَأَى أَقْنَاءً مُعَلَّقَةً فَطَعَنَ فِي قِنْوٍ مِنْهَا، فَإِذَا فِيهِ حَشَفٌ، فَقَالَ: «مَنْ صَاحِبُ هَذَا؟ لَوْ تَصَدَّقَ بِأَطْيَبِ مِنْهُ، إِنَّ صَاحِبَ هَذَا لِيَأْكُلُ الْحَشَفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ثُمَّ قَالَ: «يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ لَتَدَعُنَّهَا لِلْعَوَافِي أَرْبَعِينَ عَامًا» قِيلَ: وَمَا الْعَوَافِي؟ قَالَ: «الطَّيْرُ وَالسِّبَاعُ»
ترجمہ
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ مسجد میں داخل ہوئے اور آپ ﷺ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی، آپ ﷺ نے لٹکے ہوئے کھجوروں کے خوشے دیکھے تو ایک خوشے کو چھڑی سے ٹھونکا، تو اس میں ردی کھجوریں نکلیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا مالک کون ہے؟ کاش وہ اس سے بہتر صدقہ کرتا، بے شک اس کا مالک قیامت کے دن ردی کھجوریں کھائے گا۔“ پھر فرمایا: ”اے مدینہ والو! تم اسے چالیس سال تک درندوں اور پرندوں کے لیے چھوڑ دو گے۔“ پوچھا گیا: 'عوافی' کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پرندے اور درندے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15190
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 55، حدیث 99
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي عَرِيبٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، أَنَّ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ، وَابْنِ عَبْدِ كُلَالٍ دَخَلَا مَسْجِدَ حِمْصٍ، فَرَأَيَا جَمَاعَةً، فَقَالَ عَوْفٌ: مَا هَذِهِ؟ فَقَالُوا: كَعْبٌ يَقُصُّ، فَقَالَ: يَا وَيْحَهُ أَمَا سَمِعَ حَدِيثَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَقُصُّ عَلَى النَّاسِ إِلَّا أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَوْ مُخْتَالٌ»
ترجمہ
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ اور ابن عبد کلال حمص کی مسجد میں داخل ہوئے تو ایک جماعت دیکھی، عوف رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا: کعب وعظ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: افسوس! کیا اس نے رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث نہیں سنی: ”لوگوں کو صرف امیر، یا امیر کا مقرر کردہ، یا خود پسند شخص ہی وعظ کرے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15191
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 55، حدیث 100
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، أنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا زِيَادُ بْنُ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ قَامَ مَقَامَ رِيَاءٍ رَاءَى اللهُ بِهِ، وَمَنْ قَامَ مَقَامَ سُمْعَةٍ سَمَّعَ اللهُ بِهِ»
ترجمہ
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جو دکھاوے کے لیے کھڑا ہو، اللہ اس کے دکھاوے کو ظاہر کر دیتا ہے، اور جو سنانے کے لیے کھڑا ہو، اللہ اسے سنا دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15192
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 56، حدیث 101