المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
كثير بن مرة الحضرمي ٤، عن عوف بن مالك باب: کثیر بن مرہ حضرمی کی سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 15190
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي عَرِيبٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَبِيَدِهِ عَصًا فَرَأَى أَقْنَاءً مُعَلَّقَةً فَطَعَنَ فِي قِنْوٍ مِنْهَا، فَإِذَا فِيهِ حَشَفٌ، فَقَالَ: «مَنْ صَاحِبُ هَذَا؟ لَوْ تَصَدَّقَ بِأَطْيَبِ مِنْهُ، إِنَّ صَاحِبَ هَذَا لِيَأْكُلُ الْحَشَفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ثُمَّ قَالَ: «يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ لَتَدَعُنَّهَا لِلْعَوَافِي أَرْبَعِينَ عَامًا» قِيلَ: وَمَا الْعَوَافِي؟ قَالَ: «الطَّيْرُ وَالسِّبَاعُ»ترجمہ
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ مسجد میں داخل ہوئے اور آپ ﷺ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی، آپ ﷺ نے لٹکے ہوئے کھجوروں کے خوشے دیکھے تو ایک خوشے کو چھڑی سے ٹھونکا، تو اس میں ردی کھجوریں نکلیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا مالک کون ہے؟ کاش وہ اس سے بہتر صدقہ کرتا، بے شک اس کا مالک قیامت کے دن ردی کھجوریں کھائے گا۔“ پھر فرمایا: ”اے مدینہ والو! تم اسے چالیس سال تک درندوں اور پرندوں کے لیے چھوڑ دو گے۔“ پوچھا گیا: 'عوافی' کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پرندے اور درندے۔“