المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الحميد بن عبد الرحمن بن زيد بن الخطاب، عن عوف بن مالك باب: عبدالحمید بن عبدالرحمن بن زید بن خطاب کی سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْكِلَابِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكٍ فِي آخِرِ السَّحَرِ وَهُوَ فِي فُسْطَاطِهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: أَدْخُلُ؟ فَقَالَ: «ادْخُلْ» فَقُلْتُ: كُلِّي؟ فَقَالَ: «كُلُّكَ» ثُمَّ قَالَ: " سِتٌّ قَبْلَ السَّاعَةِ: أَوَّلُهُنَّ مَوْتُ نَبِيِّكُمْ قُلْ: إِحْدَى " قُلْتُ: إِحْدَى، " وَالثَّانِيَةُ: فَتْحُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ قُلْ: اثْنَتَيْنِ " قُلْتُ: اثْنَتَيْنِ قَالَ: " وَالثَّالِثَةُ: مُوتَانٌ يَأْخُذُكُمْ كَقُعَاصِ الْغَنَمِ قُلْ: ثَلَاثًا " قُلْتُ: ثَلَاثًا، قَالَ: " وَالرَّابِعَةُ: يُفِيضُ فِيكُمُ الْمَالُ حتَّىإِنَّ الرَّجُلَ لَيُعْطَى مِائَةَ دِينَارٍ فَيَظَلَّ يَسْخَطُهَا قُلْ: أَرْبَعًا، وَالْخَامِسَةُ: فِتْنَةٌ تَكُونُ بَيْنَكُمْ فَلَا يَبْقَى فِيكُمْ بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا دَخَلَتْهُ قُلْ: خَمْسًا " قُلْتُ: خَمْسًا، " وَالسَّادِسَةُ: هُدْنَةٌ تَكُونُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ بَنِي الْأَصْفَرِ فَيَجْتَمِعُونَ لَكُمْ حَمْلَ الْمَرْأَةِ ثُمَّ يَغْدِرُونَ بِكُمْ فَيُقْبِلُونَ فِي ثَمَانِينَ رَايَةً تَحْتَ كُلِّ رَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا "سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں غزوہ تبوک میں رات کے آخری پہر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺ اپنے خیمے میں تھے، میں نے سلام کیا اور عرض کیا: کیا اندر آ جاؤں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آ جاؤ۔“ میں نے عرض کیا: پورا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پورے۔“ پھر فرمایا: ”قیامت سے پہلے چھ چیزیں، پہلی: تمہارے نبی کی موت، کہو ایک۔“ میں نے کہا: ایک۔ ”اور دوسری: بیت المقدس کی فتح، کہو دو۔“ میں نے کہا: دو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور تیسری: ایک وبا جو تمہیں بکریوں کی وبا کی طرح پکڑے گی، کہو تین۔“ میں نے کہا: تین۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور چوتھی: تم میں اتنا مال پھیل جائے گا کہ آدمی کو سو دینار دیے جائیں گے تو وہ ناراض ہو جائے گا، کہو چار، اور پانچویں: تم میں ایک فتنہ برپا ہو گا جو کچے پکے ہر گھر میں داخل ہو گا، کہو پانچ۔“ میں نے کہا: پانچ۔ ”اور چھٹی: تمہارے اور بنو اصفر کے درمیان صلح ہو گی، وہ تمہارے خلاف جمع ہوں گے، پھر تم سے عہد شکنی کریں گے اور اسّی جھنڈوں کے ساتھ چڑھائی کریں گے، ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار فوجی ہوں گے۔“