کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: سیدنا عائذ بن سعید جسری رضی اللہ عنہ (جسر، قبیلہ عنزہ کی ایک شاخ ہے جو ربیعہ سے تعلق رکھتا ہے)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقُرَشِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ النَّضْرِ، عَنْ أُمِّ الْبَنِينَ بِنْتِ شَرَاحِيلَ الْعَبْدِيَّةِ، عَنْ عَائِذِ بْنِ سَعِيدٍ الْجَسْرِيِّ قَالَ: " وَفَدْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأَنْتَ امْسَحْ وَجْهِي، وَادَعُ لِي بِالْبَرَكَةِ، فَمَسَحَ وَجْهِي، وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ " قَالَتْ أُمُّ الْبَنِينَ وَهِيَ امْرَأَتُهُ: مَا رَأَيْتُهُ مُنْتَبِهًا مِنْ نَوْمٍ قَطُّ إِلَّا كَانَ وَجْهُهُ مُدْهَنٌ وَإِنْ كَانَ لِيَجْتَزِئَ بِالتَّمَرَاتِ "
ترجمہ
سیدنا عائذ بن سعید جسری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میرے چہرے پر ہاتھ پھیریں اور میرے لیے برکت کی دعا کریں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے میرے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور میرے لیے برکت کی دعا فرمائی۔ ام البنین، جو ان کی بیوی تھیں، کہتی ہیں: میں نے انہیں کبھی نیند سے بیدار ہوتے نہیں دیکھا مگر ان کا چہرہ تیل لگا ہوا (چمکدار) ہوتا، حالانکہ وہ کھجوروں پر ہی گزارا کر لیتے تھے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15126
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 21، حدیث 35
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقُرَشِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أُمِّ الْبَنِينَ بِنْتِ شَرَاحِيلَ، عَنْ عَائِذِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ سُمَيْرُ بْنُ زُهَيْرٍ الْجَسْرِيُّ: يَا رَسُولَ اللهِ، " إِنَّ أَخِي سَلَمَةَ بْنَ زُهَيْرٍ خَرَجَ مُهَاجِرًا إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِهِ، فَلَقِيَهُ رِعَاءُ رِكَابَكَ مِنْ بَنِي غِفَارٍ فَقَتَلُوهُ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، وَقَدْ كَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ دَمٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَدَعَاهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُمْ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالُوا: وَجَدْنَاهُ يَسُوقُ رِكَابَكَ فَأَرَدْنَا أَخْذَهُ، فَامْتَنَعَ مِنَّا، فَقَتَلْنَاهُ، فَلَا أَدْرِي هَلْ حَلَّفَهُمْ، أَوْ صَدَّقَهُمْ، غَيْرَ أَنَّهُ قَدْ سَأَلَهُ عَنِ إِسْلَامِ أَخِيهِ فَلَمْ يَجِدْ بَيِّنَةً، فَعَقَلَ لَهُ حُرْمَةَ الشَّهْرِ الْحَرَامِ خَمْسِينَ مِنَ الْإِبِلِ " قَالَ: فَبَقِيَتِ الْإِبِلُ فِي أَهْلِ بَيْتِهِ أَفْضَلَ نَعَمٍ وَأَعْظَمَ بَرَكَةٍ "
ترجمہ
سیدنا عائذ بن سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سمیر بن زہیر جسری نے عرض کیا: یا رسول اللہ، میرا بھائی سلمہ بن زہیر اللہ عزوجل اور اس کے رسول ﷺ کی طرف ہجرت کرتے ہوئے نکلا، تو اسے بنو غفار کے آپ ﷺ کے اونٹوں کے چرواہوں نے حرمت والے مہینے میں راستے میں پا لیا اور قتل کر دیا، حالانکہ زمانہ جاہلیت میں ہمارے اور ان کے درمیان خون کا معاملہ تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں بلایا اور اس بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: ہم نے اسے آپ کے اونٹ ہانکتے پایا تو ہم نے اسے پکڑنا چاہا، اس نے انکار کیا تو ہم نے اسے قتل کر دیا۔ (راوی کہتے ہیں) مجھے معلوم نہیں کہ آپ ﷺ نے ان سے قسم لی یا انہیں سچا مان لیا، البتہ آپ ﷺ نے بھائی سے اس کے اسلام کے بارے میں پوچھا تو اسے کوئی گواہی نہ ملی، چنانچہ آپ ﷺ نے حرمت والے مہینے کی حرمت کی وجہ سے پچاس اونٹ بطور دیت مقرر فرمائے۔ راوی کہتے ہیں: وہ اونٹ ان کے گھر والوں میں بہترین اور سب سے بابرکت مال ثابت ہوئے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15127
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 22، حدیث 36