حدیث نمبر: 15127
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقُرَشِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أُمِّ الْبَنِينَ بِنْتِ شَرَاحِيلَ، عَنْ عَائِذِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ سُمَيْرُ بْنُ زُهَيْرٍ الْجَسْرِيُّ: يَا رَسُولَ اللهِ، " إِنَّ أَخِي سَلَمَةَ بْنَ زُهَيْرٍ خَرَجَ مُهَاجِرًا إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِهِ، فَلَقِيَهُ رِعَاءُ رِكَابَكَ مِنْ بَنِي غِفَارٍ فَقَتَلُوهُ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، وَقَدْ كَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ دَمٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَدَعَاهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُمْ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالُوا: وَجَدْنَاهُ يَسُوقُ رِكَابَكَ فَأَرَدْنَا أَخْذَهُ، فَامْتَنَعَ مِنَّا، فَقَتَلْنَاهُ، فَلَا أَدْرِي هَلْ حَلَّفَهُمْ، أَوْ صَدَّقَهُمْ، غَيْرَ أَنَّهُ قَدْ سَأَلَهُ عَنِ إِسْلَامِ أَخِيهِ فَلَمْ يَجِدْ بَيِّنَةً، فَعَقَلَ لَهُ حُرْمَةَ الشَّهْرِ الْحَرَامِ خَمْسِينَ مِنَ الْإِبِلِ " قَالَ: فَبَقِيَتِ الْإِبِلُ فِي أَهْلِ بَيْتِهِ أَفْضَلَ نَعَمٍ وَأَعْظَمَ بَرَكَةٍ "
ترجمہ

سیدنا عائذ بن سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سمیر بن زہیر جسری نے عرض کیا: یا رسول اللہ، میرا بھائی سلمہ بن زہیر اللہ عزوجل اور اس کے رسول ﷺ کی طرف ہجرت کرتے ہوئے نکلا، تو اسے بنو غفار کے آپ ﷺ کے اونٹوں کے چرواہوں نے حرمت والے مہینے میں راستے میں پا لیا اور قتل کر دیا، حالانکہ زمانہ جاہلیت میں ہمارے اور ان کے درمیان خون کا معاملہ تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں بلایا اور اس بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: ہم نے اسے آپ کے اونٹ ہانکتے پایا تو ہم نے اسے پکڑنا چاہا، اس نے انکار کیا تو ہم نے اسے قتل کر دیا۔ (راوی کہتے ہیں) مجھے معلوم نہیں کہ آپ ﷺ نے ان سے قسم لی یا انہیں سچا مان لیا، البتہ آپ ﷺ نے بھائی سے اس کے اسلام کے بارے میں پوچھا تو اسے کوئی گواہی نہ ملی، چنانچہ آپ ﷺ نے حرمت والے مہینے کی حرمت کی وجہ سے پچاس اونٹ بطور دیت مقرر فرمائے۔ راوی کہتے ہیں: وہ اونٹ ان کے گھر والوں میں بہترین اور سب سے بابرکت مال ثابت ہوئے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15127
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 22، حدیث 36