حدیث نمبر: 15125
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ مُوسَى شِيرَانُ الرَّامَهُرْمُزِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنِي شَيْخٌ، عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى بِقَدَحٍ أَوْ بِعُسٍّ وَفِي الْمَاءِ قِلَّةٌ فَتَوَضَّأَ بِهِ ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَرَشَّ عَلَيْهِمْ» - أَوْ قَالَ: نَضَحَ عَلَيْهِمْ - قَالَ: وَالسَّعِيدُ فِي أَنْفُسِنَا مَنْ أَصَابَهُ قَالَ: وَأُرَاهُ قَدْ أَصَابَهُمْ كُلُّهُمْ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِهِمْ صَلَاةَ الضُّحَى "
ترجمہ

سیدنا عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک پیالہ یا بڑا برتن لایا گیا جس میں پانی تھوڑا تھا، آپ ﷺ نے اس سے وضو کیا، پھر حکم دیا تو اسے لوگوں پر چھڑک دیا گیا - یا فرمایا: ان پر چھینٹے مارے گئے - راوی کہتے ہیں: ہمارے نزدیک خوش نصیب وہ تھا جسے یہ پانی لگے۔ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ یہ سب کو لگا۔ پھر رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور انہیں چاشت کی نماز پڑھائی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15125
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 21، حدیث 34