حَدَّثَنِي بِهَذِهِ النِّسْبَةِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْمِنْقَرِيُّ، ثنا الْأَصْمَعِيُّ
ترجمہ
یہ نسب احمد بن عبدالعزیز جوہری کی روایت سے بیان ہوا ہے، وہ زکریا بن یحییٰ منقری سے، وہ اصمعی سے روایت کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْمِنْهَالُ بْنُ بَحْرٍ، ثنا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ قَالَ: لَمَّا كَانَ فِي زَمَانِ يَزِيدَ بْنِ الْمُهَلَّبِ خَرَجْتُ إِلَى مَكَّةَ أَنَا وَيَحْيَى بْنُ أَبِي نَصْرٍ قَالَ: " فَمَرَرْنَا بِمَاءٍ يُقَالُ لَهُ: التَّرْحِيحُ " قَالُوا لَنَا: هَاهُنَا رَجُلٌ قَدْ رَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْنَا شَيْخًا كَبِيرًا قَالَ: قُلْنَا: رَأَيْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «نَعَمْ، وَكَتَبَ لِي بِهَذَا الْمَاءِ وَأَخْرَجَ إِلَيْنَا جِلْدَةً فِيهَا كِتَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» فَقُلْنَا: مَا اسْمُكَ؟ قَالَ الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ: قُلْنَا: فَمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: كُنْتُ تَحْتَ نَاقَتِهِ يَوْمَ عَرَفَةَ وَهِيَ تَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا " فَقَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟ وَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟ وَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟» قَالَ: قُلْنَا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «أَلَيْسَ هَذَا شَهْرٌ حَرَامٌ، وَبَلَدٌ حَرَامٌ، وَيَوْمٌ حَرَامٌ؟ ؟» قُلْنَا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «أَلَا إِنَّ دِمَاءَكُمْ، وَأَمْوَالَكُمْ، وَأَعْرَاضَكُمْ، عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا إِلَى يَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ، اللهُمَّ هَلْ بَلَّغَتُ؟ اللهُمَّ اشْهَدْ»
ترجمہ
… ہمیں ایک پانی کے پاس لے آئے جسے 'ترحیح' کہا جاتا تھا، ان لوگوں نے ہم سے کہا: یہاں ایک آدمی ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے، چنانچہ ہم ایک بہت بوڑھے شخص کے پاس آئے، ہم نے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، اور آپ ﷺ نے میرے لیے اسی پانی کے بارے میں (تحریری سند) لکھی، اور ہمیں ایک چمڑا نکال کر دکھایا جس میں رسول اللہ ﷺ کا خط تھا۔ ہم نے پوچھا: آپ کا نام کیا ہے؟ انہوں نے کہا: عداء بن خالد۔ ہم نے پوچھا: آپ نے رسول اللہ ﷺ سے کیا سنا؟ انہوں نے کہا: میں یوم عرفہ کے دن آپ ﷺ کی اونٹنی کے نیچے تھا اور وہ جگالی کر رہی تھی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! یہ کون سا دن ہے؟ اور یہ کون سا مہینہ ہے؟ اور یہ کون سا شہر ہے؟“ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا یہ حرمت والا مہینہ نہیں؟ اور حرمت والا شہر نہیں؟ اور حرمت والا دن نہیں؟“ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سن لو! تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تم پر اسی طرح حرام ہیں جیسے تمہارا یہ دن، تمہارے اس مہینے میں، تمہارے اس شہر میں حرمت والے ہیں، یہاں تک کہ تم اپنے رب سے ملو۔ اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟ اے اللہ! گواہ رہ۔“
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمِنْقَرِيُّ، ثنا الْهُنَيدُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ: سَمِعْتُ الْعَدَّاءَ بْنَ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ يَقُولُ: «قَاتَلْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَنْصُرْنَا اللهُ وَلَمْ يُظْهِرْنَا»
ترجمہ
سیدنا عداء بن خالد بن ہوذہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے جنگ کی تو اللہ نے ہماری مدد نہ فرمائی اور ہمیں غالب نہ کیا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الزِّئْبَقِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْجَوْهَرِيُّ، قَالَا: ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْمُقْرِئُ، ثنا الْأَصْمَعِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ الشَّحَّامِ، عَنْ أَبِي رَجَاءَ الْعُطَارِدِيِّ، قَالَ الْأَصْمَعِيُّ: وَهُوَ عِمْرَانُ بْنُ تَيْمٍ مَوْلًى لَهُمْ، قَالَ: قَالَ الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ: أَلَا أُقْرِئُكُمْ كِتَابًا كَتَبَهُ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْنَا: بَلَى، فَإِذَا فِيهِ مَكْتُوبٌ: «بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا مَا اشْتَرَى الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، اشْتَرَى مِنْهُ عَبْدًا - أَوْ أَمَةً شَكَّ عُثْمَانُ - بِيَاعَةً أَوْ بَيْعَ الْمُسْلِمِ لَا دَاءَ وَلَا غَائِلَةَ وَلَا خِبْثَةَ» قَالَ الْأَصْمَعِيُّ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ أَبِي عَرُوبَةَ عَنِ الْغَائِلَةِ فَقَالَ: «الْأَبَاقُ وَالسَّرِقَةُ وَالزِّنَا» ، وَسَأَلْتُهُ عَنِ الْخِبْثَةِ، قَالَ: «بَيْعُ أَهْلِ عَهْدِ الْمُسْلِمِينَ»
ترجمہ
سیدنا عداء بن خالد بن ہوذہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تمہیں وہ تحریر نہ پڑھ کر سناؤں جو رسول اللہ ﷺ نے میرے لیے لکھوائی تھی؟ ہم نے کہا: کیوں نہیں۔ تو اس میں لکھا تھا: ”بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ یہ وہ سودا ہے جو عداء بن خالد بن ہوذہ نے محمد رسول اللہ ﷺ سے خریدا، انہوں نے آپ ﷺ سے ایک غلام - یا لونڈی، عثمان کو شک ہے - خریدی، مسلمان کی بیع کے طور پر، جس میں نہ کوئی عیب ہے، نہ فریب، نہ خباثت۔“ اصمعی کہتے ہیں: میں نے سعید بن ابی عروبہ سے 'غائلہ' کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: بھاگ جانا، چوری اور زنا۔ اور میں نے ان سے 'خبثہ' کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: معاہد لوگوں کا (ناجائز) بیچا جانا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَهْدِيٍّ أَبُو عَبْدُ اللهِ الْقَاضِي الرَّامَهُرْمُزِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَرْزُوقٍ، ثنا فَهِدُ بْنُ الْبَخْتَرِيِّ بْنِ شُعَيْبِ بْنِ عُمَرَ الْأَزْرَقُ، حَدَّثَنِي شُعَيْبُ بْنُ عُمَرَ قَالَ: خَرَجْتُ إِلَى مَكَّةَ فَلَمَّا صِرْتُ بِالضَّرِيَّةِ قَالَ لِي بَعْضُ إِخْوَانِي: هَلْ لَكَ فِي رَجُلٍ لَهُ صُحْبَةٌ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: صَاحِبُ الْقُبَّةِ الْمَضْرُوبَةِ فِي مَوْضِعِ كَذَا وَكَذَا، فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي: قُومُوا بِنَا إِلَيْهِ فَقُمْنَا، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى صَاحِبِ الْقُبَّةِ فَسَلَّمْنَا فَرَدَّ السَّلَامَ فَقَالَ: مَنِ الْقَوْمُ؟ قُلْنَا: قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ بَلَغَنَا أَنَّ لَكَ صُحْبَةٌ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَعَمْ، صَحِبْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَعَدْتُ تَحْتَ مِنْبَرِهِ يَوْمَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَاكُمْ} [الحجرات: ١٣] فَلَيْسَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى عَجَمِيٍّ فَضْلٌ، وَلَا لِعَجَمِيٍّ عَلَى عَرَبِيٍّ فَضْلٌ، وَلَا لِأَسْوَدَ عَلَى أَبْيَضٍ وَلَا لِأَبْيَضَ عَلَى أَسْوَدَ فَضْلٌ إِلَّا بِالتَّقْوَى، يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ لَا تَجِيئُونِي بِالدُّنْيَا تَحْمِلُونَهَا عَلَى أَعْنَاقِكُمْ وَيَجِيءُ النَّاسُ بِالْآخِرَةِ فَإِنِّي لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللهِ شَيْئًا " قُلْنَا: مَا نُسَمِّيكَ اسْمُكَ؟ قَالَ: أَنَا الْعَدَّاءُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ فَارِسُ الضَّحْيَاءِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ
ترجمہ
شعیب بن عمر بیان کرتے ہیں: میں مکہ کی طرف نکلا، جب میں ضریہ پہنچا تو میرے ایک ساتھی نے مجھ سے کہا: کیا تمہیں کسی ایسے آدمی میں دلچسپی ہے جسے رسول اللہ ﷺ کی صحبت حاصل رہی ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: فلاں جگہ خیمہ لگائے ہوئے صاحب خیمہ ہی وہ ہیں۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: چلو ان کے پاس چلتے ہیں، چنانچہ ہم گئے، جب ہم صاحب خیمہ کے پاس پہنچے تو ہم نے سلام کیا، انہوں نے سلام کا جواب دیا اور پوچھا: کون لوگ ہو؟ ہم نے کہا: بصرہ کے کچھ لوگ ہیں، ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ کو رسول اللہ ﷺ کی صحبت حاصل رہی ہے۔ انہوں نے کہا: ہاں، میں نے رسول اللہ ﷺ کی صحبت اختیار کی اور حجۃ الوداع کے دن آپ ﷺ کے منبر کے نیچے بیٹھا، آپ ﷺ منبر پر چڑھے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”بے شک اللہ عزوجل فرماتا ہے: 'اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قومیں اور قبیلے بنایا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو، بے شک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہے' [الحجرات: 13]، پس کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت نہیں، اور نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر، اور نہ کسی کالے کو کسی گورے پر، اور نہ کسی گورے کو کسی کالے پر، مگر تقویٰ کی بنا پر۔ اے قریش کی جماعت! تم دنیا کو اپنی گردنوں پر لاد کر میرے پاس نہ آنا جبکہ لوگ آخرت لے کر آئیں، کیونکہ اس دن میں تمہیں اللہ سے کچھ بھی نفع نہ دے سکوں گا۔“ ہم نے پوچھا: ہم آپ کو کس نام سے پکاریں، آپ کا نام کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں عداء بن عمرو بن عامر ہوں، جاہلیت میں 'الضحیاء کا شہسوار' کہلاتا تھا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَهْدِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا فَهِدُ بْنُ الْبَخْتَرِيِّ بْنِ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنِي جَدِّي، حَدَّثَنِي شُعَيْبُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ: سَمِعْتُ الْعَدَّاءَ بْنَ خَالِدٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى لَا يُسَلِّمَ الرَّجُلُ إِلَّا عَلَى مَنْ يَعْرِفُ، وَحَتَّى تُتَّخَذَ الْمَسَاجِدُ طُرُقًا، وَحَتَّى تَتْجَرَ الْمَرْأَةُ وَزَوْجُهَا، وَحَتَّى تَرْخُصَ النِّسَاءُ وَالْخَيْلُ فَلَا تَغْلُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ
سیدنا عداء بن خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک آدمی صرف اسی کو سلام نہ کرے جسے وہ پہچانتا ہو، اور مسجدیں راستے بنا لی جائیں، اور عورت اور اس کا شوہر مل کر تجارت کریں، اور عورتیں اور گھوڑے سستے ہو جائیں اور قیامت تک مہنگے نہ ہوں۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَهْدِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَرْزُوقٍ، ثنا صَالِحُ بْنُ عُمَرِ بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ جَدِّهِ شُعَيْبِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: حَجَجْنَا فَمَرَرْنَا بِطَرِيقِ الْمُنْكَدِرِ وَكَانَ النَّاسُ يَأْخُذُونَ فِيهِ، فَضَلَلْنَا الطَّرِيقَ، فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ، إِذَا بِأَعْرَابِيٍّ كَأَنَّمَا نَبَعَ عَلَيْنَا مِنَ الْأَرْضِ فَقَالَ لِي: يَا شَيْخُ، تَدْرِي أَيْنَ أَنْتَ؟ قُلْتُ: لَا. قَالَ: أَنْتَ بِالذَّوَائِبِ بِهَذَا التَّلُّ الْأَبْيَضُ الَّذِي تَرَاهُ عِظَامُ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ، وتَغْلِبٍ، وَهَذَا قَبْرُ كُلَيْبٍ أَخِي مُهَلْهَلٍ ثُمَّ قَالَ لِي: هَلْ لَكَ فِي رَجُلٍ لَهُ صُحْبَةٌ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صُحْبَةٌ تَسْمَعُ مِنْهُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَذَهَبَ بِي إِلَى قُبَّةِ آدَمَ، فَإِذَا أَنَا بِرَجُلٍ مَعْصُوبِ الْحَاجِبَيْنِ بِعِصَابٍ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ فَارِسُ الضَّحْيَةِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقُلْتُ لَهُ: يَرْحَمُكَ اللهُ حَدِّثْنَا بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ قَامَ قَوْمَةً لَهُ كَأَنَّهُ مُفْزَعٌ فَقَالَ لَهُ ابْنُ مَسْعُودٍ: يَا رَسُولَ اللهِ، قُمْتَ كَأَنَّكَ مُفْزَعٌ، فَقَالَ: «إِيَّاكُمْ وَالدَّجَّالِينَ الثَّلَاثَ» فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: بِأَبِي وَأُمِّي قَدْ أَخْبَرْتَنَا عَنِ الدَّجَّالِ الْأَعْوَرِ وَعَنْ أَكْذَبِ الْكَذَّابَيْنَ، فَمَنِ الدَّجَّالُ الثَّالِثُ؟ قَالَ: «رَجُلٌ يَخْرُجُ فِي قَوْمٍ، أَوَّلُهُمْ مَثْبُورٌ، وَآخِرِهُمْ مَبْتُورٌ، عَلَيْهِمُ اللَّعْنَةُ دَائِمَةٌ فِي فِتْنَةٍ يُقَالُ لَهَا الْحَارِقَةُ، وَهُوَ الدَّجَّالُ الْأَطْلَسُ يَأْكُلُ عِبَادَ اللهِ»
ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں: ہم نبی کریم ﷺ کے پاس تھے کہ آپ ﷺ اس طرح اٹھے جیسے کسی بات سے گھبرا گئے ہوں، تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ اس طرح اٹھے جیسے گھبرا گئے ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تین دجالوں سے بچو۔“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ نے ہمیں کانے دجال اور سب سے بڑے جھوٹے کے بارے میں بتا دیا، تیسرا دجال کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک آدمی جو ایک قوم میں نکلے گا، جن میں پہلا ہلاک شدہ ہو گا اور آخری کٹا ہوا، ان پر ہمیشہ لعنت رہے گی، ایک ایسے فتنے میں جسے 'حارقہ' کہا جاتا ہے، اور وہی دجال اطلس ہے جو اللہ کے بندوں کو کھا جائے گا۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا جَهْضَمُ بْنُ الضَّحَّاكِ، قَالَ: مَرَرْتُ بِالنَّرْجِيجِ فَرَأَيْتُ بِهِ شَيْخًا قَالُوا: هَذَا الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ فَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: صِفْهُ لِي، قَالَ: «كَانَ حَسَنُ السَّبَلَةِ، وَكَانَتِ الْعَرَبُ تُسَمِّي اللِّحْيَةَ السَّبَلَةَ»
ترجمہ
جہضم بن ضحاک بیان کرتے ہیں: میں 'نرجیج' سے گزرا تو وہاں ایک بزرگ کو دیکھا، لوگوں نے بتایا: یہ عداء بن خالد بن ہوذہ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے۔ میں نے عرض کیا: مجھے آپ ﷺ کا حلیہ بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ کی داڑھی خوبصورت (گھنی) تھی، اور عرب داڑھی کو 'سبلہ' کہتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا سُلَيْمُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا جَهْضَمُ بْنُ الضَّحَّاكِ، عَنِ الْعَدَّاءِ بْنِ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ قَالَ: أَخْرَجَ إِلَيْنَا كِتَابًا فَقَالَ: «كَتَبَهُ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطِيعَتُهُ مِنْهُ بِذَا الْمَاءِ الَّذِي أَنَا فِيهِ»
ترجمہ
سیدنا عداء بن خالد بن ہوذہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ہمارے سامنے ایک تحریر نکالی اور بتایا کہ یہ رسول اللہ ﷺ نے میرے لیے لکھی تھی، اس پانی کے بارے میں جس پر میں (اب) ہوں، آپ ﷺ کی طرف سے مجھے یہ زمین بطور قطعہ عطا کی گئی تھی۔