حدیث نمبر: 15108
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَهْدِيٍّ أَبُو عَبْدُ اللهِ الْقَاضِي الرَّامَهُرْمُزِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَرْزُوقٍ، ثنا فَهِدُ بْنُ الْبَخْتَرِيِّ بْنِ شُعَيْبِ بْنِ عُمَرَ الْأَزْرَقُ، حَدَّثَنِي شُعَيْبُ بْنُ عُمَرَ قَالَ: خَرَجْتُ إِلَى مَكَّةَ فَلَمَّا صِرْتُ بِالضَّرِيَّةِ قَالَ لِي بَعْضُ إِخْوَانِي: هَلْ لَكَ فِي رَجُلٍ لَهُ صُحْبَةٌ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: صَاحِبُ الْقُبَّةِ الْمَضْرُوبَةِ فِي مَوْضِعِ كَذَا وَكَذَا، فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي: قُومُوا بِنَا إِلَيْهِ فَقُمْنَا، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى صَاحِبِ الْقُبَّةِ فَسَلَّمْنَا فَرَدَّ السَّلَامَ فَقَالَ: مَنِ الْقَوْمُ؟ قُلْنَا: قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ بَلَغَنَا أَنَّ لَكَ صُحْبَةٌ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَعَمْ، صَحِبْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَعَدْتُ تَحْتَ مِنْبَرِهِ يَوْمَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَاكُمْ} [الحجرات: ١٣] فَلَيْسَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى عَجَمِيٍّ فَضْلٌ، وَلَا لِعَجَمِيٍّ عَلَى عَرَبِيٍّ فَضْلٌ، وَلَا لِأَسْوَدَ عَلَى أَبْيَضٍ وَلَا لِأَبْيَضَ عَلَى أَسْوَدَ فَضْلٌ إِلَّا بِالتَّقْوَى، يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ لَا تَجِيئُونِي بِالدُّنْيَا تَحْمِلُونَهَا عَلَى أَعْنَاقِكُمْ وَيَجِيءُ النَّاسُ بِالْآخِرَةِ فَإِنِّي لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللهِ شَيْئًا " قُلْنَا: مَا نُسَمِّيكَ اسْمُكَ؟ قَالَ: أَنَا الْعَدَّاءُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ فَارِسُ الضَّحْيَاءِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ
ترجمہ

شعیب بن عمر بیان کرتے ہیں: میں مکہ کی طرف نکلا، جب میں ضریہ پہنچا تو میرے ایک ساتھی نے مجھ سے کہا: کیا تمہیں کسی ایسے آدمی میں دلچسپی ہے جسے رسول اللہ ﷺ کی صحبت حاصل رہی ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: فلاں جگہ خیمہ لگائے ہوئے صاحب خیمہ ہی وہ ہیں۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: چلو ان کے پاس چلتے ہیں، چنانچہ ہم گئے، جب ہم صاحب خیمہ کے پاس پہنچے تو ہم نے سلام کیا، انہوں نے سلام کا جواب دیا اور پوچھا: کون لوگ ہو؟ ہم نے کہا: بصرہ کے کچھ لوگ ہیں، ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ کو رسول اللہ ﷺ کی صحبت حاصل رہی ہے۔ انہوں نے کہا: ہاں، میں نے رسول اللہ ﷺ کی صحبت اختیار کی اور حجۃ الوداع کے دن آپ ﷺ کے منبر کے نیچے بیٹھا، آپ ﷺ منبر پر چڑھے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”بے شک اللہ عزوجل فرماتا ہے: 'اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قومیں اور قبیلے بنایا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو، بے شک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہے' [الحجرات: 13]، پس کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت نہیں، اور نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر، اور نہ کسی کالے کو کسی گورے پر، اور نہ کسی گورے کو کسی کالے پر، مگر تقویٰ کی بنا پر۔ اے قریش کی جماعت! تم دنیا کو اپنی گردنوں پر لاد کر میرے پاس نہ آنا جبکہ لوگ آخرت لے کر آئیں، کیونکہ اس دن میں تمہیں اللہ سے کچھ بھی نفع نہ دے سکوں گا۔“ ہم نے پوچھا: ہم آپ کو کس نام سے پکاریں، آپ کا نام کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں عداء بن عمرو بن عامر ہوں، جاہلیت میں 'الضحیاء کا شہسوار' کہلاتا تھا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15108
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 12، حدیث 16