المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
من اسمه عداء باب: جن صحابہ کا نام عداء ہے
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْمِنْهَالُ بْنُ بَحْرٍ، ثنا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ قَالَ: لَمَّا كَانَ فِي زَمَانِ يَزِيدَ بْنِ الْمُهَلَّبِ خَرَجْتُ إِلَى مَكَّةَ أَنَا وَيَحْيَى بْنُ أَبِي نَصْرٍ قَالَ: " فَمَرَرْنَا بِمَاءٍ يُقَالُ لَهُ: التَّرْحِيحُ " قَالُوا لَنَا: هَاهُنَا رَجُلٌ قَدْ رَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْنَا شَيْخًا كَبِيرًا قَالَ: قُلْنَا: رَأَيْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «نَعَمْ، وَكَتَبَ لِي بِهَذَا الْمَاءِ وَأَخْرَجَ إِلَيْنَا جِلْدَةً فِيهَا كِتَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» فَقُلْنَا: مَا اسْمُكَ؟ قَالَ الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ: قُلْنَا: فَمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: كُنْتُ تَحْتَ نَاقَتِهِ يَوْمَ عَرَفَةَ وَهِيَ تَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا " فَقَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟ وَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟ وَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟» قَالَ: قُلْنَا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «أَلَيْسَ هَذَا شَهْرٌ حَرَامٌ، وَبَلَدٌ حَرَامٌ، وَيَوْمٌ حَرَامٌ؟ ؟» قُلْنَا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «أَلَا إِنَّ دِمَاءَكُمْ، وَأَمْوَالَكُمْ، وَأَعْرَاضَكُمْ، عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا إِلَى يَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ، اللهُمَّ هَلْ بَلَّغَتُ؟ اللهُمَّ اشْهَدْ»… ہمیں ایک پانی کے پاس لے آئے جسے 'ترحیح' کہا جاتا تھا، ان لوگوں نے ہم سے کہا: یہاں ایک آدمی ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے، چنانچہ ہم ایک بہت بوڑھے شخص کے پاس آئے، ہم نے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، اور آپ ﷺ نے میرے لیے اسی پانی کے بارے میں (تحریری سند) لکھی، اور ہمیں ایک چمڑا نکال کر دکھایا جس میں رسول اللہ ﷺ کا خط تھا۔ ہم نے پوچھا: آپ کا نام کیا ہے؟ انہوں نے کہا: عداء بن خالد۔ ہم نے پوچھا: آپ نے رسول اللہ ﷺ سے کیا سنا؟ انہوں نے کہا: میں یوم عرفہ کے دن آپ ﷺ کی اونٹنی کے نیچے تھا اور وہ جگالی کر رہی تھی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! یہ کون سا دن ہے؟ اور یہ کون سا مہینہ ہے؟ اور یہ کون سا شہر ہے؟“ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا یہ حرمت والا مہینہ نہیں؟ اور حرمت والا شہر نہیں؟ اور حرمت والا دن نہیں؟“ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سن لو! تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تم پر اسی طرح حرام ہیں جیسے تمہارا یہ دن، تمہارے اس مہینے میں، تمہارے اس شہر میں حرمت والے ہیں، یہاں تک کہ تم اپنے رب سے ملو۔ اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟ اے اللہ! گواہ رہ۔“