حدیث نمبر: 15107
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الزِّئْبَقِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْجَوْهَرِيُّ، قَالَا: ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْمُقْرِئُ، ثنا الْأَصْمَعِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ الشَّحَّامِ، عَنْ أَبِي رَجَاءَ الْعُطَارِدِيِّ، قَالَ الْأَصْمَعِيُّ: وَهُوَ عِمْرَانُ بْنُ تَيْمٍ مَوْلًى لَهُمْ، قَالَ: قَالَ الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ: أَلَا أُقْرِئُكُمْ كِتَابًا كَتَبَهُ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْنَا: بَلَى، فَإِذَا فِيهِ مَكْتُوبٌ: «بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا مَا اشْتَرَى الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، اشْتَرَى مِنْهُ عَبْدًا - أَوْ أَمَةً شَكَّ عُثْمَانُ - بِيَاعَةً أَوْ بَيْعَ الْمُسْلِمِ لَا دَاءَ وَلَا غَائِلَةَ وَلَا خِبْثَةَ» قَالَ الْأَصْمَعِيُّ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ أَبِي عَرُوبَةَ عَنِ الْغَائِلَةِ فَقَالَ: «الْأَبَاقُ وَالسَّرِقَةُ وَالزِّنَا» ، وَسَأَلْتُهُ عَنِ الْخِبْثَةِ، قَالَ: «بَيْعُ أَهْلِ عَهْدِ الْمُسْلِمِينَ»
ترجمہ

سیدنا عداء بن خالد بن ہوذہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تمہیں وہ تحریر نہ پڑھ کر سناؤں جو رسول اللہ ﷺ نے میرے لیے لکھوائی تھی؟ ہم نے کہا: کیوں نہیں۔ تو اس میں لکھا تھا: ”بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ یہ وہ سودا ہے جو عداء بن خالد بن ہوذہ نے محمد رسول اللہ ﷺ سے خریدا، انہوں نے آپ ﷺ سے ایک غلام - یا لونڈی، عثمان کو شک ہے - خریدی، مسلمان کی بیع کے طور پر، جس میں نہ کوئی عیب ہے، نہ فریب، نہ خباثت۔“ اصمعی کہتے ہیں: میں نے سعید بن ابی عروبہ سے 'غائلہ' کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: بھاگ جانا، چوری اور زنا۔ اور میں نے ان سے 'خبثہ' کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: معاہد لوگوں کا (ناجائز) بیچا جانا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15107
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 12، حدیث 15