حدیث نمبر: 14934
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، وَحِبَّانُ بْنُ مُوسَى قَالَا: ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَسْلَمَ أَبِي عِمْرَانَ قَالَ: صَلَّى بِنَا عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْمَغْرِبَ فَأَخَّرَهَا وَنَحْنُ بِالْقُسْطَنْطِينِيَّةِ وَمَعَنَا أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ لَهُ أَبُو أَيُّوبَ: لِمَ تُؤَخِّرُ هَذِهِ الصَّلَاةَ وَأَنْتَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرَاكَ مَنْ لَمْ يَصْحَبْهُ فَيَظُنَّ أَنَّهُ وَقْتُهَا؟ فَقُلْنَا: يَا أَبَا أَيُّوبَ كَيْفَ كُنْتُمْ تُصَلُّونَهَا؟ قَالَ: «كُنَّا نُصَلِّيهَا حِينَ تَجِبُ الشَّمْسُ يُبَادِرُونَها النُّجُومَ» ، كَذَاكَ يَا عُقْبَةُ؟ قَالَ: «نَعَمْ»
ترجمہ

ایک صحابی نے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ اس نماز (مغرب) میں تاخیر کیوں کرتے ہیں جبکہ آپ رسول اللہ ﷺ کے صحابی ہیں، آپ کو دیکھ کر جس نے آپ کی صحبت نہیں پائی وہ یہی سمجھے گا کہ یہی اس کا وقت ہے؟ ہم نے عرض کیا: اے ابوایوب! آپ لوگ اسے کس طرح پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ”ہم اسے سورج غروب ہوتے ہی پڑھ لیا کرتے تھے، ستاروں کے نکلنے سے پہلے پہلے۔“ پھر پوچھا: اے عقبہ! کیا ایسا ہی تھا؟ انہوں نے فرمایا: ”ہاں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14934
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 312، حدیث 863