المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أسلم أبو عمران التجيبي، عن عقبة باب: اسلم ابوعمران تجیبی کی سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، وَحِبَّانُ بْنُ مُوسَى قَالَا: ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَسْلَمَ أَبِي عِمْرَانَ قَالَ: صَلَّى بِنَا عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْمَغْرِبَ فَأَخَّرَهَا وَنَحْنُ بِالْقُسْطَنْطِينِيَّةِ وَمَعَنَا أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ لَهُ أَبُو أَيُّوبَ: لِمَ تُؤَخِّرُ هَذِهِ الصَّلَاةَ وَأَنْتَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرَاكَ مَنْ لَمْ يَصْحَبْهُ فَيَظُنَّ أَنَّهُ وَقْتُهَا؟ فَقُلْنَا: يَا أَبَا أَيُّوبَ كَيْفَ كُنْتُمْ تُصَلُّونَهَا؟ قَالَ: «كُنَّا نُصَلِّيهَا حِينَ تَجِبُ الشَّمْسُ يُبَادِرُونَها النُّجُومَ» ، كَذَاكَ يَا عُقْبَةُ؟ قَالَ: «نَعَمْ»اسلم ابوعمران رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی اور اسے مؤخر کر دیا، ہم اس وقت قسطنطنیہ میں تھے اور ہمارے ساتھ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ اس نماز میں تاخیر کیوں کرتے ہیں جبکہ آپ رسول اللہ ﷺ کے صحابی ہیں؟ جس نے آپ ﷺ کی صحبت نہیں پائی وہ آپ کو دیکھ کر یہی سمجھے گا کہ یہی اس کا وقت ہے۔ ہم نے عرض کیا: اے ابوایوب! آپ لوگ اسے کس طرح پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ”ہم اسے اس وقت پڑھتے تھے جب سورج غروب ہو جاتا، ستاروں (کے نکلنے) سے پہلے جلدی کرتے ہوئے۔“ (پھر پوچھا:) اے عقبہ! کیا ایسا ہی ہے؟ انہوں نے کہا: ”ہاں۔“