المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ابن عباس، عن عقبة بن عامر باب: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 14816
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثَنَا هُرَيْمُ بْنُ عُثْمَانَ، ثَنَا سُوَيْدٌ أَبُو حَاتِمٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَحُجُّ عَنْ أُمِّي وَقَدْ مَاتَتْ؟ قَالَ: «أَرَأَيْتِ إنْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ فَقَضَيْتِهِ أَلَيْسَ كَانَ مَقْبُولًا مِنْكِ؟» قَالَتْ: بَلَى، «فَأَمَرَهَا أَنْ تَحُجَّ عَنْهَا» ، وَجَاءَتِ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: أَحُجُّ بِابْنِي وَهُوَ مُرْضَعٌ؟ قَالَ: «نَعَمْ»ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں اپنی والدہ کی طرف سے حج کروں، وہ وفات پا چکی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بتاؤ اگر تمہاری والدہ پر قرض ہوتا اور تم اسے ادا کر دیتیں تو کیا وہ قبول نہ ہوتا؟“ اس نے کہا: کیوں نہیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اسے حکم دیا کہ وہ اپنی والدہ کی طرف سے حج کرے۔ پھر ایک اور عورت آئی اور عرض کیا: کیا میں اپنے دودھ پیتے بیٹے کو ساتھ لے کر حج کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“