کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کی سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ الْحَوْطِيُّ قَالَا: ثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ثَنَا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، ح، وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ العَلَّافُ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: لَقِيتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَبَدَرْتُهُ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ أَو بَدَرَنِي فَأَخَذَ بِيَدِي فَقَالَ: " يَا عُقْبَةُ، ألَا أُخْبِرُكَ بِأَفْضَلِ أَخْلَاقِ أَهْلِ الدُّنْيَا وَأَهْلِ الْآخِرَةِ: تَصِلُ مَنْ قَطَعَكَ، وَتُعْطِي مَنْ حَرَمَكَ، وَتَعْفُو عَمَّنْ ظَلَمَكَ، الَّذِي أَرَادَ أنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ وَيُمَدَّ لَهُ فِي عُمُرِهِ فَلْيَتَّقِ اللهَ وَلْيَصِلْ ذَا رَحِمِهِ " وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ ابْنِ أَبِي مَرْيَمَ
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن میں رسول اللہ ﷺ سے ملا تو میں نے پہل کر کے آپ کا ہاتھ تھام لیا، یا آپ ﷺ نے پہل کر کے میرا ہاتھ تھام لیا، پھر فرمایا: ”اے عقبہ! کیا میں تمہیں دنیا اور آخرت والوں کے سب سے بہتر اخلاق نہ بتاؤں: جو تم سے قطع تعلق کرے اس سے جوڑو، جو تمہیں محروم رکھے اسے دو، اور جو تم پر ظلم کرے اسے معاف کر دو۔ جو شخص چاہتا ہے کہ اس کے رزق میں کشادگی اور عمر میں برکت دی جائے تو اسے چاہیے کہ اللہ سے ڈرے اور صلہ رحمی کرے۔“
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ الفاظ ابن ابی مریم کی روایت کے ہیں۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ الفاظ ابن ابی مریم کی روایت کے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِقَالٍ الْحَرَّانِيُّ، ثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: لَقِيتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخْبِرْنِي مَا فواضلُ الْأَعْمَالِ؟ قَالَ: «أَنْ تُعْطِيَ مَنْ حَرَمَكَ، وَتَصِلَ مَنْ قَطَعَكَ، وَتَعْفُوَ عَمَّنْ ظَلَمَكَ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ سے ملا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے بتائیے کہ سب سے افضل اعمال کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کہ جو تمہیں محروم رکھے اسے دو، جو تم سے قطع تعلق کرے اس سے جوڑو، اور جو تم پر ظلم کرے اسے معاف کر دو۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ، ثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ثَنَا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، ح، وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: لَقِيتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقُلْتُ: مَا النَّجَاةُ؟ قَالَ: «يَا عُقْبَةُ، أَمْسِكْ عَلَيْكَ لِسَانَكَ، وَلْيَسَعْكَ بَيْتُكَ، وَابْكِ عَلَى خَطِيئَتِكَ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن میں رسول اللہ ﷺ سے ملا اور عرض کیا: نجات کس چیز میں ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عقبہ! اپنی زبان کو قابو میں رکھو، اپنے گھر کو تمہارے لیے کافی سمجھو، اور اپنی خطا پر روتے رہو۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثَنَا أَبُو صَالِحٍ الْحَرَّانِيُّ، ثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، ح، وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِقَالٍ الْحَرَّانِيُّ، ثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ خَالِدِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الْمَلِكِ الشَّامِيِّ، أُرَاهُ عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أُخْبِرُكَ خَيْرَ ثَلَاثِ سُوَرٍ أُنْزِلَتْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالزَّبُورِ وَالْفُرْقَانِ؟» قُلْتُ: عَلِّمْنِي يَا رَسُولَ اللهِ مِمَّا عَلَّمَكَ اللهُ، فَقَرَأَ قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ، وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ، وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ «إِنِ اسْتَطَعْتَ أنْ لَا تَبِيتَ لَيْلَةً حَتَّى تَقْرَأَهُنَّ، وَلَا يَمُرَّ بِكَ يَوْمٌ حَتَّى تَقْرَأَهُنَّ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ان تین بہترین سورتوں کے بارے میں نہ بتاؤں جو تورات، انجیل، زبور اور قرآن میں نازل ہوئیں؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے وہ سکھائیے جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے سورۃ الاخلاص، سورۃ الفلق اور سورۃ الناس پڑھیں، پھر فرمایا: ”اگر تم سے ہو سکے تو کوئی رات ان کی تلاوت کیے بغیر نہ گزارو، اور کوئی دن ان کی تلاوت کیے بغیر نہ گزرے۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ، ثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا نَجَاةُ الْمُؤْمِنِ؟ فَقَالَ: «احْفَظْ لِسَانَكَ، وَلْيَسَعْكَ بَيْتُكَ، وَابْكِ عَلَى خَطَئِكَ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مومن کی نجات کس چیز میں ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی زبان کی حفاظت کرو، اپنے گھر کو تمہارے لیے کافی سمجھو، اور اپنی خطا پر روتے رہو۔“