المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عطية بن سعد السعدي من بني جشم بن سعد باب: سیدنا عطیہ بن سعد سعدی رضی اللہ عنہ، بنو جشم بن سعد سے
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ قَالَا: ثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَطِيَّةَ السَّعْدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَطِيَّةَ أَنَّهُ كَانَ مِمَّنْ كَلَّمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ سَبْيِ هَوَازِنَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ: «عَشِيرَتُكَ وَأَصْلُكَ وَكُلُّ الْمُرْضَعِينَ» وَقَالَ: «وَلِهَذَا الْيَوْمِ اخْتَبَأْنَاكَ وَهُنَّ أُمَّهاتُكَ وأَخَواتُكَ وخَالَاتُكَ» فَكَلَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ، فَرَدَّ لَهُمْ سَبْيَهُمْ إِلَّا رَجُلَيْنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اذْهَبُوا فَخَيِّرُوهُمَا» فَقَالَ أَحَدُهُمَا: إنِّي أَتْرُكُهُ، وَقَالَ الْآخَرُ: لَا أَتْرُكُهُ، فَلَمَّا أَدْبَرَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَحْسَنَ سَهْمَهُ» فَكَانَ يَمُرُّ بِالْجَارِيَةِ الْبِكْرِ وَالْغُلَامِ فَيَدَعُهُ حَتَّى مَرَّ بِعَجُوزٍ فَقَالَ: «فَإِنِّي آخِذٌ هَذِهِ فَإِنَّهَا أُمٌّ حَيٍّ وَيَسْتَفْدُونَهَا مِنِّي بِمَا قَدَرُوا عَلَيْهِ» فَكَبَّرَ عَطِيَّةُ وَقَالَ: خُذْهَا يَا رَسُولَ اللهِ، مَا فُوهَا بِبَارِدٍ وَلَا ثَدْيُهَا بِنَاهِدٍ، وَلَا وَافِدُها بواجِدٍ، عَجُوزٌ يَا رَسُولَ اللهِ، بَرَاءُ سَبِيَّةٌ مَا لَهَا أَحَدٌ، فَلَمَّا رَآهَا لَا يَعْرِضُ لَهَا أَحَدٌ تَرَكَهَا "سیدنا عطیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے ہوازن کے قیدیوں کے دن نبی کریم ﷺ سے گفتگو کی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تمہارا خاندان اور تمہاری اصل ہے، اور یہ سب دودھ پلانے والیاں ہیں“، نیز فرمایا: ”ہم نے تمہیں اسی دن کے لیے بچا رکھا تھا، اور یہ تمہاری مائیں، بہنیں اور خالائیں ہیں۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ سے بات کی تو انہوں نے دو آدمیوں کے سوا سب کے قیدی واپس کر دیے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ اور ان دونوں کو اختیار دو۔“ ان میں سے ایک نے کہا: میں اسے چھوڑ دیتا ہوں، اور دوسرے نے کہا: میں نہیں چھوڑوں گا۔ جب وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اس نے اپنا حصہ اچھا کیا۔“ (راوی کہتے ہیں) آپ ﷺ کسی کنواری لڑکی یا لڑکے کے پاس سے گزرتے تو اسے چھوڑ دیتے، یہاں تک کہ ایک بڑھیا کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”میں اسے لیتا ہوں، کیونکہ یہ ایک قبیلے کی ماں ہے اور یہ لوگ اپنی طاقت بھر مجھ سے اسے واپس لے لیں گے۔“ اس پر عطیہ نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اسے لے لیجیے، نہ اس کا منہ خوبصورت ہے، نہ اس کا سینہ ابھرا ہوا ہے، اور نہ ہی کوئی اسے چاہے گا، یہ ایک بڑھیا ہے یا رسول اللہ، بے کس قیدی ہے جس کا کوئی نہیں۔ جب رسول اللہ ﷺ نے دیکھا کہ کوئی اسے (چھڑانے کے لیے) آگے نہیں بڑھتا تو آپ ﷺ نے اسے چھوڑ دیا۔