المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عطية بن سعد السعدي من بني جشم بن سعد باب: سیدنا عطیہ بن سعد سعدی رضی اللہ عنہ، بنو جشم بن سعد سے
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مِقْلَاصٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَاصِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَفْدِ قَوْمِهِ، فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «هَلْ قَدِمَ عَلَيْكُمْ أَحَدٌ غَيْرُكُمْ؟» قَالُوا: نَعَمْ، فَتًى مِنَّا خَلَّفْنَاهُ فِي رِحَالِنَا قَالَ: «فَأَرْسِلُوا إِلَيْهِ» فَلَمَّا دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُمْ عِنْدَهُ اسْتَقْبَلَنِي فَقَالَ: «إِنَّ الْيَدَ المُنْطِيَةُ هِيَ الْعُلْيَا، وَإِنَّ السَّائِلَةَ هِيَ السُّفْلَى، وَمَا اسْتَغْنَيْتَ فَلَا تَسْأَلْ، فَإِنَّ مَالَ اللهِ مَسْئُولٌ وَمُنْطًى»سیدنا عطیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اپنی قوم کے وفد کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تمہارے علاوہ بھی کوئی آیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، ہم میں سے ایک نوجوان ہے جسے ہم نے اپنے سامان کے پاس چھوڑا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے بلا بھیجو۔“ (عطیہ کہتے ہیں) جب میں آپ ﷺ کے پاس حاضر ہوا اور صحابہ بھی موجود تھے تو آپ ﷺ نے میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”دینے والا ہاتھ ہی اوپر والا ہے، اور مانگنے والا ہاتھ نیچے والا ہے، اور جب تک تجھے ضرورت نہ ہو مت مانگ، کیونکہ اللہ کا مال مانگا بھی جاتا ہے اور دیا بھی جاتا ہے۔“