المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عطية بن سعد السعدي من بني جشم بن سعد باب: سیدنا عطیہ بن سعد سعدی رضی اللہ عنہ، بنو جشم بن سعد سے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي زُرْعَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَالِمٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ زَنْجَلَةَ الرَّازِيُّ قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: وَفَدْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنْ بَنِي سَعْدٍ وَكُنْتُ أَصْغَرَهُمْ فَخَلَّفُونِي فِي رِحَالِهِمْ فَأَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَوْا حَوَائِجَهُمْ، فَقَالَ: «بَقِيَ أَحَدٌ؟» قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ، غُلَامٌ بَقِيَ فِي رِحَالِنَا، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَدْعُونِي فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَنْطَاكَ اللهُ فَلَا تَسْأَلِ النَّاسَ شَيْئًا، فَإِنَّ الْيَدَ الْعُلْيَا هِيَ الْمُنْطِيَةُ وإنَّ الْيَدَ السُّفْلَى هِيَ الْمُنْطَاةُ وَأَنَّ اللهَ هُوَ الْمَسئُولُ وَالْمُنْطِي» فَكَلِّمْنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلُغَتِنَاسیدنا عطیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں بنو سعد کے ایک وفد کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور میں ان میں سب سے چھوٹا تھا، چنانچہ انہوں نے مجھے اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا اور خود رسول اللہ ﷺ کے پاس جا کر اپنی ضروریات پوری کر لیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا کوئی اور باقی ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں یا رسول اللہ، ایک لڑکا ہمارے سامان کے پاس رہ گیا ہے۔ آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ اسے بلا لائیں، چنانچہ میں حاضر ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے تجھے جو کچھ عطا کیا ہے اس پر قناعت کر اور لوگوں سے کچھ نہ مانگ، کیونکہ اوپر والا ہاتھ ہی دینے والا ہے اور نیچے والا ہاتھ لینے والا ہے، اور مانگا بھی اللہ ہی سے جاتا ہے اور دیتا بھی وہی ہے۔“ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے ہماری زبان میں گفتگو فرمائی۔