حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مِقْلَاصٍ الْمِصْرِيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعُرْسَ بْنَ عُمَيْرَةَ، وَكَان مِن أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ يَقُولُ: إنَّ الْمَرْءَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْل النَّارِ الْبُرْهَةَ مِن دَهْرِهِ، ثُمّ تُعْرَضُ لَه الْجَادَّةُ مِن جَوَادِّ الْجَنَّةِ، فَيَعْمَلُ بِهَا حَتَّى يَمُوتَ عَلَيْهَا، وَذَلِك لِمَا كُتِبَ لَه، وَإنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ الْبُرْهَةَ مِن دَهْرِهِ، ثُمّ تُعْرَضُ لَه الْجَادَّةُ مِن جَوَادِّ النَّارِ فَيَعْمَلُ بِهَا حَتَّى يَمُوتَ عَلَيْهَا وَذَلِك لِمَا كُتِبَ لَهُ "
ترجمہ
سیدنا عرس بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ - جو نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے تھے - کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”بے شک آدمی اپنی زندگی کے ایک عرصے تک جہنمیوں کے سے عمل کرتا ہے، پھر اس کے سامنے جنت کی راہوں میں سے کوئی راہ آ جاتی ہے تو وہ اس پر عمل کرنے لگتا ہے یہاں تک کہ اسی پر مرتا ہے، اور یہ اس کے لیے جو لکھا جا چکا ہوتا ہے اس کے مطابق ہوتا ہے۔ اور بے شک آدمی اپنی زندگی کے ایک عرصے تک جنتیوں کے سے عمل کرتا ہے، پھر اس کے سامنے جہنم کی راہوں میں سے کوئی راہ آ جاتی ہے تو وہ اس پر عمل کرنے لگتا ہے یہاں تک کہ اسی پر مرتا ہے، اور یہ بھی اس کے لیے جو لکھا جا چکا ہوتا ہے اس کے مطابق ہوتا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ عَدِيٍّ يَقُولُ: ثَنَا رَجَاءُ بْنُ حَيْوَةَ، وَالْعُرْسُ بْنُ عُمَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا مِن حَضْرَمَوْتَ وامْرِئِ الْقَيْسِ بْنُ عَابِسٍ كَان بَيْنَهُ وَبَيْنَ آخَرَ خُصُومَةٌ فِي أَرْضٍ لَه فَأَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ فَسَأَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ الْحَضْرَمِيَّ الْبَيِّنَةَ، فَلَمْ يَكُن لَه بَيِّنَةٌ، فَقَضَى عَلَى امْرِئِ الْقَيْسِ بِالْيَمِينِ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَمْكَنْتَهُ مِن الْيَمِينِ ذَهَبَ وَاللهِ بِأَرْضِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ: «مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ لِيَقْتَطِعَ بِهِ مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللهُ وَهُو عَلَيْه غَضْبَانُ» وَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ امْرِئِ الْقَيْسِ فَتَلَا عَلَيْه هَذِه الْآيَةَ فَقَالَ امْرُؤُ الْقَيْسِ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَمَا لِمَنْ تَرَكَهَا؟ قَالَ: «الْجَنَّةُ» قَالَ: فَإِنِّي أُشْهِدُك أَنِّي قَدْ تَرَكْتُهَا "
ترجمہ
…حضرمی کے پاس کوئی گواہ نہ تھا، تو نبی کریم ﷺ نے امرئ القیس کے قسم کھانے کا فیصلہ فرمایا۔ حضرمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر آپ نے اسے قسم کھانے دی تو اللہ کی قسم وہ میری زمین لے جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو کسی مسلمان کا مال ہتھیانے کے لیے جھوٹی قسم کھاتا ہے وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر ناراض ہو گا۔“ اور رسول اللہ ﷺ نے امرئ القیس کو بلایا اور اس پر یہ آیت پڑھی۔ امرئ القیس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جو اسے چھوڑ دے اس کے لیے کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جنت۔“ اس نے کہا: تو میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اسے چھوڑ دیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ التِّرْمِذِيُّ، ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِيه، عَنِ الْعُرْسِ بْنِ عُمَيْرَةََ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ: «أَمِّرُوا النِّسَاءَ لِتُعْرِبِ الثَّيِّبُ عَنْ نَفْسِهَا، وإذْنُ الْبِكِْر صُمَاتُهَا» ، زَادَ سُفْيَانُ بْنُ عَامِرٍ فِي الْإِسْنَادِ الْعُرْسَ وَرَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي حُسَيْنٍ فَلَم يُجَاوِزِ عَدِيَّ بْنَ عُمَيْرَةَ
ترجمہ
سیدنا عرس بن عمیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عورتوں سے اجازت لو تاکہ شادی شدہ عورت اپنے بارے میں خود اظہار کرے، اور کنواری کی اجازت اس کی خاموشی ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي كَبْشَةَ، ثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، ثَنَا عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ السُّلَمِيُّ، ثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيِّ بْنِ عُمَيْرَةَ الْكِنْدِيِّ، عَنِ الْعُرْسِ بْنِ عُمَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ: «إنَّ اللهَ لَا يُعَذِّبُ الْعَامَّةَ بِعَمَلِ الْخَاصَّةِ حَتَّى تَعْمَلَ الْخَاصَّةُ بِعَمَلٍ تَقْدِرُ الْعَامَّةُ، أَنْ تُغَيِّرَهُ وَلَا تُغَيِّرُهُ فَذَاك حِينَ يَأْذَنُ اللهُ فِي هَلَاكِ الْعَامَّةِ والخاصةِ»
ترجمہ
سیدنا عرس بن عمیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ عام لوگوں کو خاص لوگوں (اہلِ اقتدار) کے عمل کی وجہ سے عذاب نہیں دیتا، یہاں تک کہ خاص لوگ ایسا عمل کریں جسے بدلنے کی طاقت عام لوگوں میں ہو اور وہ اسے نہ بدلیں، تو یہی وہ وقت ہے جب اللہ عام اور خاص سب کی ہلاکت کی اجازت دیتا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَيْفِ بْنِ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ عَدِيٍّ.
ترجمہ
(اس سند کے بعد کوئی متن اصل کتاب میں محفوظ نہیں ملا؛ صرف یہ درج ہے کہ سیف بن سلیمان نے کہا: میں نے عدی بن عدی سے سنا - آگے کی روایت مصدر میں ناقص ہے۔)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثَنَا عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ، عَنِ الْعُرْسِ بْنِ عُمَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا عُمِلَتِ الْخَطِيئَةُ فِي الْأَرْضِ فَمَنْ شَهِدَهَا وأَنْكَرَهَا فَهُو كَمَنْ غَابَ عَنْهَا، وَمَنْ غَابَ عَنْهَا ورَضِيَهَا كَمَنْ شَهِدَهَا»
ترجمہ
سیدنا عرس بن عمیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب زمین میں کوئی گناہ کیا جائے تو جو اسے دیکھے اور اسے ناپسند کرے وہ ایسا ہے جیسے وہاں موجود ہی نہ ہو، اور جو وہاں موجود نہ ہو مگر اس پر راضی ہو، وہ ایسا ہے جیسے وہاں موجود ہو۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ خَالِدِ بْنِ حَيَّانَ الرَّقِّيِّ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْأَفْطَحِ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ زَهْدَمٍ، ثَنَا أَبِي زَهْدَمِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْعُرْسِ بْنِ عُمَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ كَذَبَ عَلِيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِن النَّارِ»
ترجمہ
سیدنا عرس بن عمیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جو مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔“