حدیث نمبر: 14412
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مِقْلَاصٍ الْمِصْرِيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعُرْسَ بْنَ عُمَيْرَةَ، وَكَان مِن أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ يَقُولُ: إنَّ الْمَرْءَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْل النَّارِ الْبُرْهَةَ مِن دَهْرِهِ، ثُمّ تُعْرَضُ لَه الْجَادَّةُ مِن جَوَادِّ الْجَنَّةِ، فَيَعْمَلُ بِهَا حَتَّى يَمُوتَ عَلَيْهَا، وَذَلِك لِمَا كُتِبَ لَه، وَإنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ الْبُرْهَةَ مِن دَهْرِهِ، ثُمّ تُعْرَضُ لَه الْجَادَّةُ مِن جَوَادِّ النَّارِ فَيَعْمَلُ بِهَا حَتَّى يَمُوتَ عَلَيْهَا وَذَلِك لِمَا كُتِبَ لَهُ "
ترجمہ

سیدنا عرس بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ - جو نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے تھے - کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”بے شک آدمی اپنی زندگی کے ایک عرصے تک جہنمیوں کے سے عمل کرتا ہے، پھر اس کے سامنے جنت کی راہوں میں سے کوئی راہ آ جاتی ہے تو وہ اس پر عمل کرنے لگتا ہے یہاں تک کہ اسی پر مرتا ہے، اور یہ اس کے لیے جو لکھا جا چکا ہوتا ہے اس کے مطابق ہوتا ہے۔ اور بے شک آدمی اپنی زندگی کے ایک عرصے تک جنتیوں کے سے عمل کرتا ہے، پھر اس کے سامنے جہنم کی راہوں میں سے کوئی راہ آ جاتی ہے تو وہ اس پر عمل کرنے لگتا ہے یہاں تک کہ اسی پر مرتا ہے، اور یہ بھی اس کے لیے جو لکھا جا چکا ہوتا ہے اس کے مطابق ہوتا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14412
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 137، حدیث 340