حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ، ثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ هِشَامٍ السَّدُوسِيُّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَكَّائِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ «فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِن الْأَنْصَارِ، ثُمَّ مِن بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ زَيْدٍ عُوَيْمُ بْنُ سَاعِدَةَ، وَلَم يَنْسُبْهُ ابْنُ إِسْحَاقَ» وَقَالَ: إنَّهُ حَلِيفٌ لِبَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ وَيُقَالُ: إنَّهُ مِن أَنْفُسِهِمْ
ترجمہ
محمد بن اسحاق، بدر میں شریک ہونے والے انصار کے ناموں کے ضمن میں، پھر بنو امیہ بن زید میں سے، عویم بن ساعدہ کا ذکر کرتے ہیں - ابن اسحاق نے ان کا نسب بیان نہیں کیا - اور کہتے ہیں: وہ بنو عمرو بن عوف کے حلیف تھے، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ خود انہی میں سے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْمِصِّيصِيُّ، ثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عُوَيْمِ بْنِ سَاعِدَةَ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ أَتَاهُمْ فِي مَسْجِدِ قُبَاءَ فَقَالَ: «إنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَحْسَنَ إِلَيْكُم الثَّنَاءَ فِي الطُّهُورِ فِي قِصَّةِ مَسْجِدِكُمْ فَمَا هُو الطُّهُورُ الَّذِي تَطَّهَّرُونَ بِهِ؟» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ مَا نَعْلَمُ شَيْئًا إِلَّا أَنَّه كَان لَنَا جِيرَانٌ مِن الْيَهُودِ، فَكَانُوا يَغْسِلُونَ أَدْبَارَهُمْ مِنَ الْغَائِطِ فَغَسَلْنَا كَمَا غَسَلُوا
ترجمہ
سیدنا عویم بن ساعدہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ مسجد قباء میں ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”اللہ عزوجل نے تمہاری مسجد کے بارے میں طہارت کے حوالے سے تمہاری بہت تعریف کی ہے، وہ کون سی طہارت ہے جس سے تم پاکیزگی حاصل کرتے ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں کچھ معلوم نہیں، سوائے اس کے کہ ہمارے کچھ یہودی ہمسائے تھے، وہ رفع حاجت کے بعد اپنے پچھلے حصے کو دھویا کرتے تھے تو ہم نے بھی ویسے ہی دھونا شروع کر دیا جیسے وہ دھوتے تھے۔
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ عَمْرٍو الْعُكْبَرِيُّ، ثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُوَيْمِ بْنِ سَاعِدَةَ، عَنْ أَبِيه، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ قَالَ: «إنَّ اللهُ اخْتَارَنِي وَاخْتَارَ لِي أَصْحَابًا فَجَعَلَ لِي بَيْنَهُمْ وُزَرَاءَ وأنْصَارًا وأصْهَارًا، فَمَنْ سَبَّهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْه يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفٌ وَلَا ِعَدْلٌ»
ترجمہ
سیدنا عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ نے مجھے چن لیا اور میرے لیے صحابہ چن لیے، اور ان میں سے میرے لیے وزراء، انصار اور سسرالی رشتہ دار بنا دیے۔ پس جو انہیں گالی دے اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہو، قیامت کے دن اس سے کوئی فدیہ اور نہ کوئی معاوضہ قبول کیا جائے گا۔“
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ عَمْرٍو الْعُكْبَرِيُّ، ثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُوَيْمِ بْنِ سَاعِدَةَ، عَنْ أَبِيه، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ: «عَلَيْكُم بِالْأَبْكَارِ فَإِنَّهُنَّ أَعْذَبُ أَفْوَاهًا وَأَنْتَقُ أَرْحَامًا وَأَرْضَى بِالْيَسِيرِ»
ترجمہ
سیدنا عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کنواریوں سے نکاح کیا کرو، کیونکہ وہ زیادہ میٹھی زبان والی، زیادہ زرخیز رحم والی اور تھوڑے پر زیادہ راضی رہنے والی ہوتی ہیں۔“
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ عَمْرٍو الْعُكْبَرِيُّ، ثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ التَّيْمِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُوَيْمِ بْنِ سَاعِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّه، قَالَ: أَنْهَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ رَجُلًا مَعَه قَوْسٌ فَارِسِيَّةٌ فَقَالَ: «اطْرَحْهَا» ثُمّ أَشَارَ إِلَى الْقَوْسِ الْعَرَبِيَّةِ وَقَالَ: «بِهَذِه وبِرُمْحِ الْقَنَا يُمَكِّنُ لَكُم فِي الْبِلَادِ ويَنْصُرُكُمْ عَلَى عَدُوِّكُمْ»
ترجمہ
سیدنا عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو، جس کے پاس فارسی کمان تھی، ڈانٹا اور فرمایا: ”اسے پھینک دو۔“ پھر عربی کمان کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ”اسی سے اور نیزے سے اللہ تمہیں زمینوں میں تمکنت دے گا اور تمہارے دشمن پر تمہاری مدد کرے گا۔“