حدیث نمبر: 14404
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحِ بْنِ صَفْوَانَ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ النَّضْرُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ بُكَيْرِ بْنِ يَحْيَى الْمَعَرِّيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالُوا: ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ طَالُوتَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ النُّدَّرِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَجَلَيْنِ قَضَى مُوسَى؟ قَالَ: «أَبَرَّهُمَا وَأَوْفَاهُمَا» ، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ: " إنَّ مُوسَى لَمَّا أَرَادَ فِرَاقَ شُعَيْبٍ عَلَيْه السَّلَامُ قَالَ لِامْرَأَتِهِ أَنْ تَسْأَلَ أَبَاهَا أَنْ يُعْطِيَهَا غَنَمِهِ مَا تَعِيشُ بِهِ فَأَعْطَاهَا مَا نُتِجَتْ غَنَمُهُ فِي ذَلِك الْعَامِ مِن قالبِ لَوْنٍ وَاحِدٍ فَلَمَّا وَرَدَتْ الْغَنَمُ الْحَوْضَ وَقَفَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ بِإِزَاءِ الْحَوْضِ، فَلَمْ يَصْدُرْ مِنْهَا شَيْءٌ إِلَّا ضَرَبَ جَنْبَهَا فَحَمَلَتْ فَنُتِجَتْ كُلُّهُنُّ قالبَ لَوْنٍ وَاحِدٍ لَيْسَ فِيهِنَّ فَشُوشٌ وَلَا ضَبُوبٌ وَلَا نَعُولٌ وَلَا كَمْشَةٌ تَفُوتُهُ الْكَفُّ قَالَ: فَإِنِ افْتَتَحْتُمُ الشَّامَ وَجَدْتُمْ بَقَايَا مِنْهَا فَاتَّخِذُوها وَهِي السَّامِرِيَّةُ " قَالَ ابْنُ يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ: قَالَ أَبِي: «الْفَشُوشُ الَّتِي يَنْفُشُ لَبَنُهَا عِنْدَ الْحَلْبِ، والضَّبُوبُ الَّتِي يَضِبُّ ضَرْعُهَا عَلَى اللَّبَنِ عِنْدَ الْحَلْبِ، وَالْكَمْشَةُ الَّتِي تَعْتَاضُ عِنْدَ الْحَلْبِ»
ترجمہ

سیدنا عتبہ بن الندر سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ موسیٰ علیہ السلام نے دونوں مدتوں میں سے کون سی پوری کی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان دونوں میں سے زیادہ نیک اور زیادہ پوری کرنے والی۔“ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب موسیٰ علیہ السلام نے شعیب علیہ السلام سے جدا ہونے کا ارادہ کیا تو اپنی بیوی سے کہا کہ وہ اپنے والد سے درخواست کرے کہ وہ انہیں اتنی بکریاں دے دیں جن سے وہ گزارہ کر سکیں۔ چنانچہ انہوں نے اس سال ان کی بکریوں میں جتنے بچے ایک ہی رنگ کے پیدا ہوں وہ اسے دے دیے۔ جب بکریاں حوض پر آئیں تو موسیٰ علیہ السلام حوض کے سامنے کھڑے ہو گئے، اور کوئی بکری ایسی نہ نکلی جس کے پہلو پر انہوں نے نہ مارا ہو، تو وہ حاملہ ہو گئیں اور سب نے ایک ہی رنگ کے بچے جنے، ان میں نہ کوئی 'فشوش' تھی، نہ 'ضبوب'، نہ 'نعول' اور نہ ایسی 'کمشہ' جس کا تھن ہاتھ میں نہ آئے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پس اگر تم شام فتح کرو تو ان کی نسل میں سے باقیات پاؤ گے، انہیں اپنے پاس رکھو، وہی 'سامریہ' نسل ہے۔“ (ابن یحییٰ بن بکیر کہتے ہیں: میرے والد نے فرمایا: ”فشوش وہ بکری ہے جس کا دودھ دوہتے وقت تھن سے پھیل جائے، ضبوب وہ ہے جس کا تھن دودھ دوہتے وقت دودھ کو روک لے، اور کمشہ وہ ہے جو دودھ دوہتے وقت دودھ دینے سے بچنے کی کوشش کرے۔“)

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14404
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 134، حدیث 332