کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا عبداللہ بن زمعہ بن اسود بن مطلب بن عبدالعزیٰ بن قصی رضی اللہ عنہ، ان کی والدہ قریبہ بنت ابی امیہ بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم تھیں، اور ان کی والدہ عاتکہ بنت عبدالمطلب تھیں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذٍ الْحُبُلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي مَسْلَمَةُ بْنُ قَعْنَبٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَمْعَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ وَذَكَرَ النَّاقَةَ وَالَّذِي عَقَرَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " {إِذِ انْبَعَثَ} [الشمس: ١٢] اللهُ {أَشْقَاهَا} [الشمس: ١٢] انْبَعَثَ لَهَا رَجُلٌ عَزِيزٌ مَنِيعٌ فِي رَهْطِهِ مِثْلُ أَبِي زَمْعَةَ "، ثُمَّ ذَكَرَ النِّسَاءَ، فَقَالَ: «إِلَامَ يَعْمَدُ أَحَدُكُمْ فَيَجْلِدُ امْرَأَتَهُ جَلْدَ الْعَبْدِ، ثُمَّ لَعَلَّهُ يُضَاجِعُهَا مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ؟» ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَعِظُهُمْ فِي ضَحِكِهِمْ مِنَ الضَّرْطَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا يُضْحِكُ أَحَدَكُمْ مِمَّا يَفْعَلُ؟» .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے (یہ آیت پڑھ کر) فرمایا: ”جب اس (قوم) میں سب سے بدبخت شخص اٹھا“ [سورۃ الشمس: 12] — یعنی اس (اونٹنی کو مارنے) کے لیے ایک ایسا زبردست اور اپنی قوم میں بارسوخ آدمی اٹھا جیسے ابوزمعہ۔ پھر آپ ﷺ نے عورتوں کا ذکر کیا اور فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو غلام کی طرح مارتا ہے، پھر شاید اسی دن کے آخر میں اس سے ہم بستر بھی ہو جاتا ہے؟“ پھر میں نے آپ ﷺ کو انہیں (بلا وجہ) ہوا خارج ہونے پر ہنسنے کے بارے میں نصیحت کرتے سنا، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کو اپنے اس فعل پر کیا چیز ہنساتی ہے؟“
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَمْعَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الرَّاسِبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَمْعَةَ، أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فِي خُطْبَتِهِ ذَكَرَ النَّاقَةَ وَالَّذِي عَقَرَهَا، فَقَالَ: " {إِذِ انْبَعَثَ أَشْقَاهَا} [الشمس: ١٢] انْبَعَثَ لَهَا رَجُلٌ عَزِيزٌ عَارِمٌ مَنِيعٌ فِي قَوْمِهِ مِثْلُ أَبِي زَمْعَةَ "، ثُمَّ ذَكَرَ النِّسَاءَ، فَقَالَ: «إِلَامَ يَعْمَدُ أَحَدُكُمْ إِلَى امْرَأَتِهِ فَيَجْلِدُهَا جَلْدَ الْعَبْدِ، وَلَعَلَّهُ يُضَاجِعُهَا مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ» ، ثُمَّ وَعَظَهُمْ مِنْ ضَحِكِهِمْ مِنَ الضَّرْطَةِ، فَقَالَ: «مَا يُضْحِكُ أَحَدَكُمْ مِمَّا يَفْعَلُ؟»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اس (قوم) میں سب سے بدبخت شخص اٹھا“ [سورۃ الشمس: 12] — یعنی اس کے لیے ایک ایسا زبردست، سرکش اور اپنی قوم میں بارسوخ آدمی اٹھا جیسے ابوزمعہ۔ پھر آپ ﷺ نے عورتوں کا ذکر کیا اور فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنی بیوی کی طرف قصد کر کے اسے غلام کی طرح مارتا ہے، اور شاید اسی دن کے آخر میں اس سے ہم بستر بھی ہو جائے۔“ پھر آپ ﷺ نے انہیں (بلا وجہ) ہوا خارج ہونے پر ہنسنے سے منع فرمایا اور فرمایا: ”تم میں سے کسی کو اپنے اس فعل پر کیا چیز ہنساتی ہے؟“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَمْعَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يَجْلِدُ أَحَدُكُمُ امْرَأَتَهُ جَلْدَ الْعَبْدِ، ثُمَّ يُجَامِعُهَا فِي آخِرِ النَّهَارِ» .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو غلام کی طرح مارتا ہے، پھر دن کے آخر میں اس سے صحبت بھی کر لیتا ہے۔“
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَمْعَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ شَيْبَةَ الْمِصْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " تَزَوَّجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ فَجَاءَ أَخُوهَا مِنَ الْحَجِّ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ، فَجَعَلَ يَحْثُو عَلَى رَأْسِهِ التُّرَابَ، فَلَمَّا أَسْلَمَ، قَالَ: إِنِّي لَسَفِيهٌ يَوْمَ أَحْثُو عَلَى رَأْسِي التُّرَابَ أَنْ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوْدَةَ "
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو ان کے بھائی عبد بن زمعہ حج سے واپس آئے تو (غصے میں) اپنے سر پر مٹی ڈالنے لگے۔ پھر جب وہ مسلمان ہو گئے تو کہا: میں کتنا نادان تھا جس دن میں نے اپنے سر پر مٹی ڈالی تھی، اس بات پر کہ رسول اللہ ﷺ نے سودہ سے نکاح کر لیا تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهَ، عَنْ عَبْدَ اللهَ بْنَ زَمْعَةُ بْنَ الْأَسْوَدَ بْنَ الْمُطَّلِبَ بْنَ أَسَدٍ قَالَ: لَمَّا اسْتُعِزَّ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنَا عِنْدَهُ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ دَعَا بِلَالٌ إِلَى الصَّلَاةِ، فَقَالَ: «مُرُوا مَنْ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» ، فَخَرَجْتُ فَإِذَا عُمَرُ فِي النَّاسِ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ غَائِبًا، فَقُلْتُ: يَا عُمَرُ قُمْ فَصَلِّ بِالنَّاسِ، فَقَامَ، فَلَمَّا كَبَّرَ سَمِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ، وَكَانَ عُمَرُ رَجُلًا جَهِيرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَأَيْنَ أَبُو بَكْرٍ؟، يَأْبَى اللهُ وَالْمُسْلِمُونَ ذَلِكَ» ، فَبَعَثَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَجَاءَ بَعْدَ أَنْ صَلَّى عُمَرُ تِلْكَ الصَّلَاةَ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ، قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ زَمْعَةَ فَقَالَ لِي عُمَرُ: وَيْحَكَ مَاذَا صَنَعْتَ بِي يَا ابْنَ زَمْعَةَ؟، وَاللهِ مَا ظَنَنْتُ حِينَ أَمَرْتَنِي إِلَّا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَكَ بِذَلِكَ، وَلَوْلَا ذَلِكَ مَا صَلَّيْتُ بِالنَّاسِ، قُلْتُ: وَاللهِ مَا أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنْ حِينَ لَمْ أَرَ أَبَا بَكْرٍ رَأَيْتُكَ أَحَقَّ مَنْ حَضَرَ بِالصَّلَاةِ مِنَ النَّاسِ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن زمعہ بن اسود بن مطلب بن اسد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: جب رسول اللہ ﷺ کی بیماری شدت اختیار کر گئی اور میں مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ آپ کے پاس تھا تو بلال رضی اللہ عنہ نے نماز کے لیے اذان دی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کسی سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔“ میں باہر نکلا تو دیکھا کہ عمر رضی اللہ عنہ لوگوں میں موجود ہیں، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ (اس وقت) موجود نہ تھے۔ میں نے کہا: اے عمر! اٹھیے اور لوگوں کو نماز پڑھائیے۔ وہ کھڑے ہو گئے، جب انہوں نے تکبیر کہی تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی آواز سنی، اور عمر رضی اللہ عنہ بلند آواز والے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابوبکر کہاں ہیں؟ اللہ اور مسلمان اس (کے سوا کسی اور کے امامت کرنے) سے انکار کرتے ہیں۔“ چنانچہ آپ ﷺ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلوایا، وہ عمر رضی اللہ عنہ کے اس نماز سے فارغ ہونے کے بعد آئے اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔ عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: تم پر افسوس! اے ابن زمعہ، تم نے میرے ساتھ یہ کیا کیا؟ اللہ کی قسم، جب تم نے مجھے حکم دیا تو میں نے یہی سمجھا کہ رسول اللہ ﷺ نے تمہیں اس کا حکم دیا ہے، ورنہ میں لوگوں کو نماز نہ پڑھاتا۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم، مجھے رسول اللہ ﷺ نے حکم نہیں دیا تھا، بلکہ جب میں نے ابوبکر کو نہ پایا تو مجھے آپ ہی لوگوں میں نماز کے سب سے زیادہ حق دار نظر آئے۔
حَدَّثَنَا طَاهِرُ بْنُ عِيسَى الْمُقْرِئُ الْمِصْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَقِيلُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَمْعَةَ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ الْمُطَّلِبِ، قَالَ: لَمَّا اشْتَدَّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعُهُ، وَأَنَا عِنْدَهُ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ دَعَا بِلَالٌ إِلَى الصَّلَاةِ، فَقَالَ: «مُرُوهُ فَلْيَأْمُرِ النَّاسَ يُصَلُّوا» ، فَخَرَجَ فَأَتَى عُمَرُ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ غَائِبًا، فَقَالَ: يَا عُمَرُ قُمْ فَصَلِّ بِالنَّاسِ، فَقَامَ فَلَمَّا كَبَّرَ سَمِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ، وَكَانَ عُمَرُ جُهَيْرَ الصَّوْتِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيْنَ أَبُو بَكْرٍ، يَأْبَى اللهُ ذَلِكَ وَالْمُسْلِمُونَ» ، فَرَدَّدَ ذَلِكَ مِرَارًا فَبَعَثَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَجَاءَ بَعْدَ أَنْ صَلَّى عُمَرُ تِلْكَ الصَّلَاةَ، فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ بِالنَّاسِ، قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ زَمْعَةَ: قَالَ لِي عُمَرُ: مَا صَنَعْتَ بِي يَا ابْنَ زَمْعَةَ؟، وَاللهِ مَا ظَنَنْتُ حِينَ أَمَرْتَنِي أَنْ أُصَلِّيَ بِالنَّاسِ إِلَّا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَكَ بِذَلِكَ، وَلَوْلَا ذَلِكَ مَا صَلَّيْتُ بِالنَّاسِ، فَقُلْتُ: مَا أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنْ حِينَ لَمْ أَرَ أَبَا بَكْرٍ رَأَيْتُكَ خَيْرَ مَنْ حَضَرَ.
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن زمعہ بن اسود بن مطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: جب نبی کریم ﷺ کی تکلیف شدید ہو گئی اور میں مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ آپ کے پاس تھا تو بلال رضی اللہ عنہ نے نماز کے لیے اذان دی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس (جو موجود ہو) سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھانے کا حکم دے۔“ وہ باہر نکلے تو عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ (اس وقت) موجود نہ تھے، تو انہوں نے کہا: اے عمر! اٹھیے اور لوگوں کو نماز پڑھائیے۔ وہ کھڑے ہو گئے، جب انہوں نے تکبیر کہی تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی آواز سنی، اور عمر رضی اللہ عنہ بلند آواز والے تھے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ابوبکر کہاں ہیں؟ اللہ اور مسلمان اس سے انکار کرتے ہیں۔“ آپ ﷺ نے یہ بات کئی بار دہرائی، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلوایا، وہ عمر رضی اللہ عنہ کے اس نماز سے فارغ ہونے کے بعد آئے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: اے ابن زمعہ، تم نے میرے ساتھ یہ کیا کیا؟ اللہ کی قسم، جب تم نے مجھے لوگوں کو نماز پڑھانے کا حکم دیا تو میں نے یہی سمجھا کہ رسول اللہ ﷺ نے تمہیں اس کا حکم دیا ہے، ورنہ میں لوگوں کو نماز نہ پڑھاتا۔ میں نے کہا: مجھے رسول اللہ ﷺ نے حکم نہیں دیا تھا، بلکہ جب میں نے ابوبکر کو نہ پایا تو مجھے آپ ہی حاضرین میں سب سے بہتر نظر آئے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى التَّيْمِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ابْنِ أَخِي الزُّهْرِيِّ، أُرَاهُ عَنْ عَمِّهِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَمْعَةَ، عَنِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔