المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الله بن زمعة بن الأسود بن المطلب بن عبد العزى بن قصي أمه قريبة بنت أبي أمية بن المغيرة بن عبد الله بن عمر بن مخزوم، وأمها عاتكة بنت عبد المطلب باب: سیدنا عبداللہ بن زمعہ بن اسود بن مطلب بن عبدالعزیٰ بن قصی رضی اللہ عنہ، ان کی والدہ قریبہ بنت ابی امیہ بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم تھیں، اور ان کی والدہ عاتکہ بنت عبدالمطلب تھیں
حدیث نمبر: 14037
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذٍ الْحُبُلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي مَسْلَمَةُ بْنُ قَعْنَبٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَمْعَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ وَذَكَرَ النَّاقَةَ وَالَّذِي عَقَرَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " {إِذِ انْبَعَثَ} [الشمس: ١٢] اللهُ {أَشْقَاهَا} [الشمس: ١٢] انْبَعَثَ لَهَا رَجُلٌ عَزِيزٌ مَنِيعٌ فِي رَهْطِهِ مِثْلُ أَبِي زَمْعَةَ "، ثُمَّ ذَكَرَ النِّسَاءَ، فَقَالَ: «إِلَامَ يَعْمَدُ أَحَدُكُمْ فَيَجْلِدُ امْرَأَتَهُ جَلْدَ الْعَبْدِ، ثُمَّ لَعَلَّهُ يُضَاجِعُهَا مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ؟» ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَعِظُهُمْ فِي ضَحِكِهِمْ مِنَ الضَّرْطَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا يُضْحِكُ أَحَدَكُمْ مِمَّا يَفْعَلُ؟» .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے (یہ آیت پڑھ کر) فرمایا: ”جب اس (قوم) میں سب سے بدبخت شخص اٹھا“ [سورۃ الشمس: 12] — یعنی اس (اونٹنی کو مارنے) کے لیے ایک ایسا زبردست اور اپنی قوم میں بارسوخ آدمی اٹھا جیسے ابوزمعہ۔ پھر آپ ﷺ نے عورتوں کا ذکر کیا اور فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو غلام کی طرح مارتا ہے، پھر شاید اسی دن کے آخر میں اس سے ہم بستر بھی ہو جاتا ہے؟“ پھر میں نے آپ ﷺ کو انہیں (بلا وجہ) ہوا خارج ہونے پر ہنسنے کے بارے میں نصیحت کرتے سنا، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کو اپنے اس فعل پر کیا چیز ہنساتی ہے؟“