المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الله بن زمعة بن الأسود بن المطلب بن عبد العزى بن قصي أمه قريبة بنت أبي أمية بن المغيرة بن عبد الله بن عمر بن مخزوم، وأمها عاتكة بنت عبد المطلب باب: سیدنا عبداللہ بن زمعہ بن اسود بن مطلب بن عبدالعزیٰ بن قصی رضی اللہ عنہ، ان کی والدہ قریبہ بنت ابی امیہ بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم تھیں، اور ان کی والدہ عاتکہ بنت عبدالمطلب تھیں
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهَ، عَنْ عَبْدَ اللهَ بْنَ زَمْعَةُ بْنَ الْأَسْوَدَ بْنَ الْمُطَّلِبَ بْنَ أَسَدٍ قَالَ: لَمَّا اسْتُعِزَّ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنَا عِنْدَهُ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ دَعَا بِلَالٌ إِلَى الصَّلَاةِ، فَقَالَ: «مُرُوا مَنْ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» ، فَخَرَجْتُ فَإِذَا عُمَرُ فِي النَّاسِ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ غَائِبًا، فَقُلْتُ: يَا عُمَرُ قُمْ فَصَلِّ بِالنَّاسِ، فَقَامَ، فَلَمَّا كَبَّرَ سَمِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ، وَكَانَ عُمَرُ رَجُلًا جَهِيرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَأَيْنَ أَبُو بَكْرٍ؟، يَأْبَى اللهُ وَالْمُسْلِمُونَ ذَلِكَ» ، فَبَعَثَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَجَاءَ بَعْدَ أَنْ صَلَّى عُمَرُ تِلْكَ الصَّلَاةَ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ، قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ زَمْعَةَ فَقَالَ لِي عُمَرُ: وَيْحَكَ مَاذَا صَنَعْتَ بِي يَا ابْنَ زَمْعَةَ؟، وَاللهِ مَا ظَنَنْتُ حِينَ أَمَرْتَنِي إِلَّا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَكَ بِذَلِكَ، وَلَوْلَا ذَلِكَ مَا صَلَّيْتُ بِالنَّاسِ، قُلْتُ: وَاللهِ مَا أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنْ حِينَ لَمْ أَرَ أَبَا بَكْرٍ رَأَيْتُكَ أَحَقَّ مَنْ حَضَرَ بِالصَّلَاةِ مِنَ النَّاسِسیدنا عبداللہ بن زمعہ بن اسود بن مطلب بن اسد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: جب رسول اللہ ﷺ کی بیماری شدت اختیار کر گئی اور میں مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ آپ کے پاس تھا تو بلال رضی اللہ عنہ نے نماز کے لیے اذان دی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کسی سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔“ میں باہر نکلا تو دیکھا کہ عمر رضی اللہ عنہ لوگوں میں موجود ہیں، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ (اس وقت) موجود نہ تھے۔ میں نے کہا: اے عمر! اٹھیے اور لوگوں کو نماز پڑھائیے۔ وہ کھڑے ہو گئے، جب انہوں نے تکبیر کہی تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی آواز سنی، اور عمر رضی اللہ عنہ بلند آواز والے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابوبکر کہاں ہیں؟ اللہ اور مسلمان اس (کے سوا کسی اور کے امامت کرنے) سے انکار کرتے ہیں۔“ چنانچہ آپ ﷺ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلوایا، وہ عمر رضی اللہ عنہ کے اس نماز سے فارغ ہونے کے بعد آئے اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔ عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: تم پر افسوس! اے ابن زمعہ، تم نے میرے ساتھ یہ کیا کیا؟ اللہ کی قسم، جب تم نے مجھے حکم دیا تو میں نے یہی سمجھا کہ رسول اللہ ﷺ نے تمہیں اس کا حکم دیا ہے، ورنہ میں لوگوں کو نماز نہ پڑھاتا۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم، مجھے رسول اللہ ﷺ نے حکم نہیں دیا تھا، بلکہ جب میں نے ابوبکر کو نہ پایا تو مجھے آپ ہی لوگوں میں نماز کے سب سے زیادہ حق دار نظر آئے۔